دہشت گردی کے پے در پے واقعات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-03-2
صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں میں سیکورٹی فورسز نے اپنے قافلے پر خوارج کے حملہ کو ناکام بناتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ اس کارروائی کے دوران پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکورٹی فورسز کو خودکش بمبار کی گاڑی کی اطلاع ملی تھی۔ اس خفیہ اطلاع پر فورسز نے علاقے میں آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگایا اور ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو فورسز کے اگلے دستے نے بروقت روک کر اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے جس پر خوارج نے بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔ اس دوران فورسز کے آپریشن میں پانچ خوارج بھی مارے گئے تاہم سیکورٹی دستوں کی بروقت کارروائی سے بنوں کو ایک بڑے سانحہ سے بچالیا گیا اور دہشت گردوں کے بنوں میں معصوم شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم خاک میں ملادیے گئے۔ آئی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اپنی جرأت مندانہ قیادت میں مصروف تھے اور اگلے مورچوں پر دستوں کی قیادت کررہے تھے۔ اس ضمن میں طالبان کی عبوری حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے تاہم پاکستانی سیکورٹی فورسز اپنی پاک سرزمین اور بے گناہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر خوارج کے خلاف بلاامتیاز اور عزم استحکام آپریشن کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری قوت سے جاری رکھیں گی۔ آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر دہشت گردوں کے خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود حافظ گل بہادر کے گروہ سے ملتے ہیں جبکہ اس خودکش حملے کی ذمے داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کرلی ہے جس کا مرکزی سرغنہ حافظ گل بہادر ہے اور اس گروہ کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس رمضان المبارک میں چار مارچ 2025ء کو اس گروہ نے بنوں چھائونی میں حملہ کیا تھا پھر دو ستمبر 2025ء کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں ہونے والے حملے کی ذمے داری بھی اس گروہ نے قبول کی تھی جس میں میجر عدنان نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اسی طرح میرعلی سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں کیے جانے والے متعدد حملوں کی ذمے داری بھی اسی گروہ نے قبول کی تھی جن کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان ہی سے کی گئی تھی جہاں ان دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں دستیاب ہیں۔ اِدھر سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن نے خیمہ بستی شیخ یوسف میں کارروائی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان کو بڑی تباہی سے بچالیا ہے اور ایک جوان عمر خاتون خود کش بمباری کو گرفتار کرکے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ شیخ یوسف خیمہ بستی میں ایک جواں عمر خودکش حملہ آور خاتون موجود ہے جس پر سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیم نے چھاپا مار کر بتائی گئی جگہ پر خاتون کو تلاش کرلیا جس نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ وہ عرصہ دراز سے خارجی کمانڈر شاہ ولی عرف طارق کوچی کی تربیت میں رہی ہے۔ طارق کوچی اب مرچکا ہے۔ مبینہ خاتون خودکش بمبار نے مزید بتایا کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کی رکن ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں خودکش حملے کے لیے رضا مندی ظاہر کی تھی جس کے بعد یہ طے پایا تھا کہ اسے حملے کے لیے ہدف اور خودکش جیکٹ خارجی کمانڈر عاصم فراہم کرے گا۔ خاتون کے خیمے سے ایک عدد کمانڈو بیگ بھی ملا ہے جس میں پستول، کارتوس، خوش بو جو بارود کی بو کو جذب کرلیتی ہے۔ دو موبائل فون، پاور بینک اور دوسرا سامان موجود تھا۔ ان اعترافات اور انکشافات کے بعد خاتون کو باضابطہ گرفتار کرکے مزید تفتیش کے لیے تحقیقات مرکز منتقل کردیا گیا ہے جبکہ آئی جی صوبہ خیبر نے کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں کوئی دن نہیں گزرتا جب دہشت گردوں کی جانب سے کسی تخریب کاری کی خبر سامنے نہ آتی ہو یا اس کے برعکس سیکورٹی فورسز کے دستوں کی جانب سے کسی دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کی اطلاع نہ ملتی ہو۔ دہشت گردوں کے خلاف ایک کے بعد دوسرا آپریشن مسلح افواج کی جانب سے کیا جاتا ہے مگر ’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق تخریبی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دہشت گردی کا سلسلہ کسی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس ضمن میں انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ صورت حال یہ بھی ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ان پے در پے واقعات میں سے کم و بیش سب کے ڈانڈے افغانستان اور وہاں موجود تنظیموں کے مراکز سے ملتے ہیں۔ جب افغانستان میں امریکا کا تسلط تھا اور وہاں کے اقتدار پر امریکا کے کٹھ پتلی حکمران قابض تھے، اس دوران بھی افغانستان کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا تھا تاہم امریکا کی افغانستان سے رخصتی کے ساتھ ہی اس کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمران بھی اقتدار چھوڑ کر فرار ہوگئے اور افغانستان کی باگ ڈور طالبان نے سنبھال لی اور وہاں باقاعدہ ایک عبوری حکومت تشکیل پاگئی تو پاکستان کے عوام اور یہاں کے فیصلہ ساز حلقوں کو بجا طور پر یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب افغانستان میں موجود پاکستان دشمن گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور وہاں موجود دہشت گرد گروہوں کے مراکز کا صفایا کردیا جائے گا۔ طالبان عبوری حکومت کی جانب سے بار بار اس کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئی چنانچہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے مابین خوش گوار تعلقات اور دوستانہ خیر سگالی کی فضا کی امید خاص قوی ہوگئی تھی مگر بدقسمتی سے یہ امید بار آور نہیں ہوسکی اور افغانستان میں پاکستان مخالف لابی مضبوط ہوتی چلی گئی اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو امریکی دور تسلط ہی کی طرح طالبان دور میں بھی افغانستان میں پزیرائی حاصل ہونے لگی جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف عناصر کی بھرپور سرپرستی افغانستان کی سرزمین پر کی جانے لگی اور انہیں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کے لیے مالی تعاون کے ساتھ ساتھ مطلوبہ اسلحہ، تخریب کاری کے آلات اور تربیت کی فراہمی کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا۔ پاکستان نے اس صورت حال پر طالبان کے ذمے دار حلقوں سے بار بار رابطہ کرکے اس خرابی کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے جس کے سبب فریقین میں کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے، پاکستان نے تنگ آکر افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں، ابھی گزشتہ روز بھی رات گئے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق جیٹ طیاروں نے صوبہ پکتیکا کے اضلاع برمل اور ارگون، صوبہ ننگر ہار کے اضلاع خوگیانی، خیلو، بحسود اور صوبہ خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور اس کی دفعہ 51 پاکستان کو یہ حق دیتی ہے کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی کارروائی کی جائے تاہم پاکستان اور افغانستان کے قدیم دوطرفہ تعلقات، اسلامی اخوت کا رشتہ اور بہت سے دیگر حوالوں کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک مل کر درپیش سنگین صورت حال کا کوئی پرامن حل تلاش کریں اور اس سلسلے میں خطے کے دیگر ممالک اور برادر اسلامی ممالک بھی کوئی کردار ادا کرسکیں تو کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے ان سے مدد اور تعاون حاصل کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز افغانستان میں دہشت گردوں کے تخریب کاری کی جانب سے کے مطابق اور وہاں سی ٹی ڈی گئی تھی کے خلاف کے لیے اور اس ہے اور
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔