Jasarat News:
2026-06-02@20:46:53 GMT

دہشت گردی کے پے در پے واقعات

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-2
صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع بنوں میں سیکورٹی فورسز نے اپنے قافلے پر خوارج کے حملہ کو ناکام بناتے ہوئے پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ اس کارروائی کے دوران پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکورٹی فورسز کو خودکش بمبار کی گاڑی کی اطلاع ملی تھی۔ اس خفیہ اطلاع پر فورسز نے علاقے میں آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگایا اور ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو فورسز کے اگلے دستے نے بروقت روک کر اس کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے جس پر خوارج نے بارود سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔ اس دوران فورسز کے آپریشن میں پانچ خوارج بھی مارے گئے تاہم سیکورٹی دستوں کی بروقت کارروائی سے بنوں کو ایک بڑے سانحہ سے بچالیا گیا اور دہشت گردوں کے بنوں میں معصوم شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم خاک میں ملادیے گئے۔ آئی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اپنی جرأت مندانہ قیادت میں مصروف تھے اور اگلے مورچوں پر دستوں کی قیادت کررہے تھے۔ اس ضمن میں طالبان کی عبوری حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے روکنے میں ناکام رہی ہے تاہم پاکستانی سیکورٹی فورسز اپنی پاک سرزمین اور بے گناہ شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر خوارج کے خلاف بلاامتیاز اور عزم استحکام آپریشن کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری قوت سے جاری رکھیں گی۔ آئی ایس پی آر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر دہشت گردوں کے خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود حافظ گل بہادر کے گروہ سے ملتے ہیں جبکہ اس خودکش حملے کی ذمے داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کرلی ہے جس کا مرکزی سرغنہ حافظ گل بہادر ہے اور اس گروہ کے اہم کمانڈر افغانستان میں پناہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ گزشتہ برس رمضان المبارک میں چار مارچ 2025ء کو اس گروہ نے بنوں چھائونی میں حملہ کیا تھا پھر دو ستمبر 2025ء کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں میں ہونے والے حملے کی ذمے داری بھی اس گروہ نے قبول کی تھی جس میں میجر عدنان نے جام شہادت نوش کیا تھا۔ اسی طرح میرعلی سمیت شمالی و جنوبی وزیرستان میں کیے جانے والے متعدد حملوں کی ذمے داری بھی اسی گروہ نے قبول کی تھی جن کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری بھی افغانستان ہی سے کی گئی تھی جہاں ان دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں دستیاب ہیں۔ اِدھر سی ٹی ڈی ڈیرہ اسماعیل خان ریجن نے خیمہ بستی شیخ یوسف میں کارروائی کرکے ڈیرہ اسماعیل خان کو بڑی تباہی سے بچالیا ہے اور ایک جوان عمر خاتون خود کش بمباری کو گرفتار کرکے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ شیخ یوسف خیمہ بستی میں ایک جواں عمر خودکش حملہ آور خاتون موجود ہے جس پر سی ٹی ڈی کی خصوصی ٹیم نے چھاپا مار کر بتائی گئی جگہ پر خاتون کو تلاش کرلیا جس نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا کہ وہ عرصہ دراز سے خارجی کمانڈر شاہ ولی عرف طارق کوچی کی تربیت میں رہی ہے۔ طارق کوچی اب مرچکا ہے۔ مبینہ خاتون خودکش بمبار نے مزید بتایا کہ وہ ایک کالعدم تنظیم کی رکن ہے اور اس نے حالیہ دنوں میں خودکش حملے کے لیے رضا مندی ظاہر کی تھی جس کے بعد یہ طے پایا تھا کہ اسے حملے کے لیے ہدف اور خودکش جیکٹ خارجی کمانڈر عاصم فراہم کرے گا۔ خاتون کے خیمے سے ایک عدد کمانڈو بیگ بھی ملا ہے جس میں پستول، کارتوس، خوش بو جو بارود کی بو کو جذب کرلیتی ہے۔ دو موبائل فون، پاور بینک اور دوسرا سامان موجود تھا۔ ان اعترافات اور انکشافات کے بعد خاتون کو باضابطہ گرفتار کرکے مزید تفتیش کے لیے تحقیقات مرکز منتقل کردیا گیا ہے جبکہ آئی جی صوبہ خیبر نے کامیاب آپریشن پر سی ٹی ڈی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے اور نقد انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ وطن عزیز میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں کوئی دن نہیں گزرتا جب دہشت گردوں کی جانب سے کسی تخریب کاری کی خبر سامنے نہ آتی ہو یا اس کے برعکس سیکورٹی فورسز کے دستوں کی جانب سے کسی دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کی اطلاع نہ ملتی ہو۔ دہشت گردوں کے خلاف ایک کے بعد دوسرا آپریشن مسلح افواج کی جانب سے کیا جاتا ہے مگر ’’مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق تخریبی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور دہشت گردی کا سلسلہ کسی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس ضمن میں انتہائی افسوس ناک اور تکلیف دہ صورت حال یہ بھی ہے کہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ان پے در پے واقعات میں سے کم و بیش سب کے ڈانڈے افغانستان اور وہاں موجود تنظیموں کے مراکز سے ملتے ہیں۔ جب افغانستان میں امریکا کا تسلط تھا اور وہاں کے اقتدار پر امریکا کے کٹھ پتلی حکمران قابض تھے، اس دوران بھی افغانستان کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا تھا تاہم امریکا کی افغانستان سے رخصتی کے ساتھ ہی اس کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمران بھی اقتدار چھوڑ کر فرار ہوگئے اور افغانستان کی باگ ڈور طالبان نے سنبھال لی اور وہاں باقاعدہ ایک عبوری حکومت تشکیل پاگئی تو پاکستان کے عوام اور یہاں کے فیصلہ ساز حلقوں کو بجا طور پر یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب افغانستان میں موجود پاکستان دشمن گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ ختم ہوجائے گا اور وہاں موجود دہشت گرد گروہوں کے مراکز کا صفایا کردیا جائے گا۔ طالبان عبوری حکومت کی جانب سے بار بار اس کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئی چنانچہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک کے مابین خوش گوار تعلقات اور دوستانہ خیر سگالی کی فضا کی امید خاص قوی ہوگئی تھی مگر بدقسمتی سے یہ امید بار آور نہیں ہوسکی اور افغانستان میں پاکستان مخالف لابی مضبوط ہوتی چلی گئی اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو امریکی دور تسلط ہی کی طرح طالبان دور میں بھی افغانستان میں پزیرائی حاصل ہونے لگی جس کے نتیجے میں بھارت کی جانب سے پاکستان مخالف عناصر کی بھرپور سرپرستی افغانستان کی سرزمین پر کی جانے لگی اور انہیں دہشت گردی اور تخریب کاری کی سرگرمیوں کے لیے مالی تعاون کے ساتھ ساتھ مطلوبہ اسلحہ، تخریب کاری کے آلات اور تربیت کی فراہمی کا سلسلہ بھی تیز ہوگیا۔ پاکستان نے اس صورت حال پر طالبان کے ذمے دار حلقوں سے بار بار رابطہ کرکے اس خرابی کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی مگر خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آسکے جس کے سبب فریقین میں کشیدگی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی ہے، پاکستان نے تنگ آکر افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں بھی کی ہیں، ابھی گزشتہ روز بھی رات گئے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں جن کے مطابق جیٹ طیاروں نے صوبہ پکتیکا کے اضلاع برمل اور ارگون، صوبہ ننگر ہار کے اضلاع خوگیانی، خیلو، بحسود اور صوبہ خوست میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ان حملوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں۔ اگرچہ اقوام متحدہ کا چارٹر اور اس کی دفعہ 51 پاکستان کو یہ حق دیتی ہے کہ قومی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے اس طرح کی کارروائی کی جائے تاہم پاکستان اور افغانستان کے قدیم دوطرفہ تعلقات، اسلامی اخوت کا رشتہ اور بہت سے دیگر حوالوں کا تقاضا ہے کہ دونوں ملک مل کر درپیش سنگین صورت حال کا کوئی پرامن حل تلاش کریں اور اس سلسلے میں خطے کے دیگر ممالک اور برادر اسلامی ممالک بھی کوئی کردار ادا کرسکیں تو کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے ان سے مدد اور تعاون حاصل کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیکورٹی فورسز افغانستان میں دہشت گردوں کے تخریب کاری کی جانب سے کے مطابق اور وہاں سی ٹی ڈی گئی تھی کے خلاف کے لیے اور اس ہے اور

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی