رمضان المبارک؛ روزوں سے آگے؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-03-6
رمضان المبارک صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں، نہ ہی یہ محض سحری و افطاری کے اوقات کا مہینہ ہے۔ بلکہ رمضان کا پورا مہینہ اور اس کی ہر ہر ساعت عبادت ہے اور اصل منزل جنت ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کو صرف روزے رکھنے تک محدود سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ رمضان ایک مکمل روحانی انقلاب، اخلاقی تربیت اور زندگی میں عملی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو انسان کو ظاہری عبادت سے اٹھا کر باطنی اصلاح اور اجتماعی خیر تک لے جاتا ہے۔ پورا مہینہ مستقل روزے رکھنا ایک بہترین عبادت اور عظیم سعادت ہے، لیکن روزے کا مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ تقویٰ حاصل کرنا ہے۔ جب انسان سارا دن اللہ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات کو روکتا ہے تو اس کے اندر ضبط ِ نفس، صبر اور اطاعت الٰہی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اگر روزہ انسان کے ذہنی شعور، اخلاق، زبان و کردار کو نہ بدلے تو اس کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس لیے اس مہینے کی سب سے بڑی سرگرمی قرآن کریم سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ ترجمہ اور تدبر کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ قرآن کو سمجھنا، اس کے پیغام کو دل کی گہرائیوں میں اُتارنا اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں اسے معیار بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔ تراویح کی نماز دراصل قرآن سننے اور اس سے تعلق جوڑنے کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔
سحری کھانا اور افطار کرنا بھی عبادت ہے۔ سحری میں برکت رکھی گئی ہے۔ دراصل یہ وقت اللہ تعالیٰ سے قربت اور مغفرت کا ہے۔ اور افطار کے وقت دعا کی قبولیت کی بشارت دی گئی ہے۔ مگر کیا افطار کے وقت ہماری توجہ دسترخوان پر سجے انواع و اقسام کے کھانوں کی طرف لگی ہوتی ہے یا اللہ کے حضور اخلاص سے ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں؟ یہ مہینہ رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے۔ لیکن مغفرت ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو توبہ کریں، اپنے گناہوں کا اعتراف کریں اور آئندہ کے لیے سچی نیت سے بدلنے کا عزم کریں۔ تزکیہ نفس یعنی اپنے دل کو حسد، تکبر، کینہ اور دنیا پرستی سے پاک کرنا رمضان کا خصوصی ہدف ہے۔ شب قدر کی برکات رمضان کی عظیم ترین نعمت ہیں۔ ایک رات جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، وہ ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ تھوڑی سی مخلصانہ عبادت بھی انسان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ لیکن شب قدر صرف جاگنے کا نام نہیں بلکہ جاگ کر دل کو للہیت کے ذریعے بیدار کرنے کا نام ہے۔ رمضان انسان کی مکمل اصلاح کا مہینہ ہے خصوصاً زبان کی اصلاح غیبت، چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے بچنا روزے کی حفاظت ہے۔ اسی طرح آنکھوں، کانوں اور ہاتھوں کا بھی روزہ ہونا چاہیے۔
رمضان ہمدردی اور انفاق کا مہینہ ہے۔ افطار کرانا، غریبوں کو کھانا کھلانا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا دراصل روزے کی روح کو معاشرے تک پہنچانا ہے۔ تاکہ ایک غنی بھوک کا مزہ چکھے اور بھوکے اور غریب کی تکلیف کو محسوس کرے تو اس کے دل میں سخاوت پیدا ہو۔ رمضان صرف فرد کی اصلاح ہی کا کورس نہیں بلکہ معاشرے پراس کے بڑے گہرے اثرات پڑتے ہیں۔ نماز روزہ تراویح قرآن وتقویٰ کی چھاپ پورے ماحول پر پڑتی ہے۔ اس وجہ سے رمضان میں معاشرے کی سوچ اور عمل میں اسلامی رنگ نکھر کر سامنے آتا ہے یہ مہینہ جنت کے شوق اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ لیکن جنت کا حصول صرف خواہش سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتا ہے۔ رمضان ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی فکر، اپنی ترجیحات اور اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لیں۔ کیا ہماری نماز، ہمارا کاروبار، ہمارے تعلقات اللہ اور رسول کے احکامات کے مطابق ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا رمضان ہمارے اندر تبدیلی لاتا ہے؟ اگر رمضان گزرنے کے بعد بھی ہماری نماز، ہمارا اخلاق، ہماری دیانت اور ہمارا طرزِ زندگی وہی رہے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم نے رمضان سے کیا پایا؟
رمضان دراصل ایک تربیتی کیمپ ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ایک مہینے کی مشق کے بعد سال کے گیارہ مہینے بھی اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھے اور زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کامیابی صرف دنیا کی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا، مغفرت اور جنت کے حصول میں ہے۔ لہٰذا رمضان کو صرف روزوں تک محدود نہ کریں۔ اسے اپنی زندگی کی اصلاح، اپنے معاشرے کی بہتری اور اپنی آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں۔ جب ہم رمضان کو اللہ اور رسول کے احکامات کے مطابق شعور اور اخلاص کے ساتھ گزاریں گے تو یہی مہینہ ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا دروازہ بن جائے گا۔ رمضان کا مبارک مہینہ آگیا ہے۔آئیے! جنت کو اپنی حقیقی منزل بنائیں اور اس کی طرف دوڑ لگائیں۔ رضائے الٰہی اور عشق رسول میں گم ہوکر رمضان کی ہر ساعت پالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قبول کر لے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا مہینہ ہے نہیں بلکہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔