data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-03-3
آج کی تراویح میں سورہ الانعام تلاوت کی جائے گی جو ساتویں پارے کے ربع سے آٹھویں پارے کے نصف پر مشتمل ہے۔ سورہ الانعام نبی کریم ؐ کی مکی زندگی کے آخری زمانے میں نازل ہونے والی سورتوں میں سے ہے۔ یہ سورت ان حالات میں نازل ہوئی جب قریش کی مخالفت اور ایذا رسانیاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھیں، ان کے ظلم و ستم کے سبب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حبشہ ہجرت پر مجبور ہوچکی تھی، نبی کریمؐ کے دو بڑے پشت بان جناب ابوطالب اور سیدہ خدیجۃُ الکبریؓ بھی وفات پا چکے تھے، ان حالات میں مکہ میں مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل تر ہوچکا تھا۔ اس سورت میں کفار کے اعتراضات کے جواب، مسلمانوں کو ان حالات کا مقابلہ کرنے اور ان کی ڈھارس بندھائی گئی ہے۔
سورت کے پہلے رکوع میں کائنات اور انسان کی اپنی تخلیق کی طرف توجہ دلاکر اسے دعوتِ فکر دی گئی کہ ان تمام مخلوقات میں ذرا بھی عقل و شعور رکھنے والوں کے لیے بہت بڑی نشانیاں عیاں ہیں۔ کفارکی ہٹ دھرمی بیان کی گئی کہ اگر قرآن کو کتابی صورت میں یک مشت نازل کردیا جاتا تو یہ اسے جادو قرار دیتے۔ اور کبھی یہ فرشتے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ان کو سوچ لینا چاہیے کہ فرشتے کے نزول کے بعد ان کے پاس کوئی دوسرا رستہ نہ ہوگا۔ اور اگر فرشتہ نازل کردیتے تب بھی اسے انسانی شکل و صورت میں نازل فرماتے۔ تب بھی ان کے اعترضات ختم نہ ہوتے۔
دوسرے رکوع میں سابقہ اقوام پر اللہ کے انعامات اور ان کی ناشکری کا ذکر کیا گیا ہے۔ اہل کتاب کے حوالے سے بتایا گیا وہ رسولؐ کو اپنی کتب میں موجود نشانیوں کی مدد سے ایسے پہچانتے ہیں جیسے کہ وہ اپنی اولاد کو، لیکن ان کی ہٹ دھرمی ان کے ایمان لانے میں مانع ہے۔ تیسرے رکوع میں یوم حشر کا مختصر نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اس دن کے عذاب کو دیکھ کر کفار گزارش کریں گے کہ انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تا کہ وہ نیک اعمال کر یں، لیکن ان کی بات کو یہ کہہ کر رد کردیا جائے گا کہ یہ اللہ کی سنت نہیں کہ دوبارہ کسی کو دنیا میں بھیجا جائے۔
چوتھے رکوع میں آپؐ کو تسلی دی گئی کہ اگر یہ لوگ آپ کی تعلیمات اور اخلاص کو جھٹلا رہے ہیں تو اس پر غم زدہ نہ ہوں، آپؐ سے پہلے بھی انبیا ؑ کو ان کی اقوام نے نہ صرف جھٹلایا بلکہ تکلیفیں بھی دیں لیکن انہوں نے صبر کیا۔ پانچویں رکوع میں انسانوں کے رویے بیان کیے گئے کہ جب ان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً ایک اللہ کو پکارتے ہیں لیکن جوں ہی اس سے تکلیف دور ہوتی ہے اور خوشحالی آتی ہے تو وہ اللہ کو بھول جاتے ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو ڈھیل دیتا ہے کہ وہ مزید سرکش ہوں تاآنکہ اللہ کا عذاب ان کو آلے۔ نبی کی حیثیت اللہ کے نمائندے کی بیان کی گئی ہے، نہ ان کے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ ہی وہ علم غیب رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چھٹے رکوع میں عزت کا معیار دین کو بتایا گیا کہ جن کمزور لوگوں نے آپؐ پر ایمان لایا ہے سردارانِ قریش کے مقابلے میں اللہ کے ہاں یہی لوگ معزز ہیں۔
ساتویں اور آٹھویں رکوع میں نبیؐ کی زبانی کفار کے مطالبہ ٔ عذاب کا جواب دیا گیا کہ اگر اس کا اختیار میرے ہاتھ میں ہوتا تو کب کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ نویں رکوع میں سیدنا ابراہیمؑ کی توحید کا تذکرہ ہے (جن سے مشرکین مکہ اپنی نسبت پر فخر کرتے تھے) کہ انہوں نے تو سورج، چاند، تاروں اور مورتوں کو خدا ماننے سے علی الاعلان انکار کردیا تھا۔ دسویں رکوع میں سیدنا ابراہیمؑ کی اولاد میں اولوالعزم انبیا سیدنا اسحاق ؑ، یعقوب ؑ، داؤد ؑ، سلیمان ؑ، ایوب ؑ، یوسف ؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، زکریاؑ، یحییٰ ؑ، عیسیٰ ؑ، الیاس ؑ، اسماعیل ؑ، السیع ؑ، یونس ؑ، لوط ؑ کا تذکرہ ہے۔ گیارہویں رکوع میں آخرت کا تذکرہ ہے کہ تم اسی طرح اکیلے میری طرف آؤ گے جس طرح اکیلے اس دنیا میں آئے تھے، یہ دنیوی تعلقات سارے کے سارے یہیں رہ جائیں گے۔
بارہویں اور تیرہویں رکوع میں نباتات و جمادات، زمین و آسمان اور نظام کائنات کی مثالیں دے کر توحید باری تعالیٰ کے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ چودھویں رکوع سے اٹھارویں رکوع تک حلال و حرام کے بارے میں تفصیلی تعلیمات دیں گئیں۔ انیسویں رکوع میں صریح حرام افعال بیان کیے گئے، جیسے شرک، والدین کی نافرمانی، قتل اولاد، فحاشی، قتل ناحق، مال یتیم کھانا، ناپ تول میں کمی، بے انصافی، عہد شکنی، نبی کو چھوڑ کر دوسرے کی پیروی کرنا۔ آخری رکوع میں انسان کا مقصد ِ زندگی بیان کیا گیا کہ ’’کہو! میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے۔ جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر ِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں‘‘۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رکوع میں ا اللہ کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔