data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-08-16
اسلام آباد ( نمائندہ جسارت) بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں سے پریشان کم آمدنی والے افراد کے لیے ریلیف کی امید پیدا ہو گئی ہے، کیونکہ وفاقی حکومت توانائی کے نرخوں کے تعین کے نظام میں بڑی تبدیلی پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ نظام، جس میں بجلی اور گیس کے نرخ کھپت (یونٹس) کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں، کو آمدنی کی بنیاد پر قیمتوں کے ماڈل میں تبدیل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت سبسڈی کا تعین گھرانے کی آمدنی کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا، نہ کہ صرف استعمال شدہ یونٹس کی تعداد کے مطابق۔اس نئے طریقہ کار کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو زیادہ سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ زیادہ آمدنی والے صارفین توانائی کی اصل لاگت کے قریب ادائیگی کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد مالی معاونت کو حقیقی مستحقین تک محدود کرنا اور نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات آئی ایم ایف کے جاری پروگرام سے بھی منسلک ہیں۔ پاکستان پہلے ہی بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہا ہے، جہاں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ کسی بھی نئی پالیسی سے کم اور درمیانی آمدنی والے طبقات پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ا مدنی والے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ