بجلی اور گیس بلوں میں بڑا دھماکہ خیز فیصلہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
وفاقی حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری اصلاحات کے مطابق بجلی اور گیس کے نرخوں میں بڑی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے. جس کے تحت استعمال کی بنیاد پر بنائے گئے موجودہ سلیب سسٹم کو ختم کر کے آمدنی کی بنیاد پر قیمتوں کا نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔مجوزہ ماڈل کے تحت سبسڈی کا تعین گھریلو آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ بجلی یا گیس کے استعمال کی مقدار کے مطابق۔ یہ توانائی کی قیمتوں کے تعین کے طریقۂ کار میں ایک بڑی اور بنیادی تبدیلی ہوگی۔حکام کے مطابق یہ اصلاحات آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت کیے گئے وعدوں کا حصہ ہیں، جن کے تحت پاکستان کو توانائی کے شعبے کی تنظیمِ نو اور اس میں موجود غیر مؤثر پہلوؤں کو ختم کرنا ہوگا۔اس منصوبے کے تحت موجودہ نظام، جس میں ٹیرف استعمال شدہ یونٹس کی تعداد سے منسلک ہے، کو ختم کر دیا جائے گا۔ نئے طریقہ کار میں گھریلو آمدنی کا جائزہ لینے کا نظام متعارف کرایا جائے گا اور اسی بنیاد پر سبسڈی دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ممکنہ طور پر موجودہ سماجی تحفظ کے نظام سے بھی انضمام کیا جا سکتا ہے۔اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مالی معاونت صرف مستحق صارفین کو ملے، جبکہ زیادہ آمدنی والے گھرانے توانائی کی اصل لاگت کے قریب قیمت ادا کریں۔پاکستان پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی کے نرخوں پر نظرثانی کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے اور فنڈ کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ کسی بھی تبدیلی کا بوجھ کم اور متوسط آمدنی والے طبقات پر نہ ڈالا جائے۔اصلاحاتی ایجنڈے میں کراس سبسڈیز میں کمی اور بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کے مسئلے کو حل کرنا بھی شامل ہے، جو معیشت کے لیے طویل عرصے سے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بنیاد پر جائے گا کے تحت
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔