ہر انسان کو اپنی مادری زبان پیاری ہے، کامریڈ اقبال
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-4-6
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) ہر ایک انسان کو اپنی مادری زبان پیاری یے ، ماں بولی میں بنیادی تعلیم دی جائے ،ملک کی ہر قومی وحدت ، میں بسنے والی قوموں اور ثقافتی گروہوں کی مادری زبانوں کی ترقی کا بندوبست کیا جائے اور اسی مادری زبان میں انہیں ابتدائی تعلیم دی جائے ۔یہ بات کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پاپولر لیفٹ الائنس کے کنوینر کامریڈ امداد قاضی نے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پیغام میں کہی ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نے قومی وحدتوں پر اردو کو مسلط کیا ، اس سے قومی وحدتوں میں اردو کے خلاف نفرت پیدا ہوئی ، زبانوں سے نفرت نہیں ہونی چاہیئے ، ان حکمرانوں سے نفرت ہونی چاہیئے جو اس طرح کے فیصلے مسلط کرتے ہیں .
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔