سندھ کو لوٹنے والوں کیخلاف جدوجہد جاری رہے گی‘ نصراللہ چنا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی/بدین (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر حافظ نصر اللہ چنا نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد فاروق فرحان نے سندھ کی وحدت کے حق میں ووٹ دے کر سندھ کی وحدت پر حملہ کرنے والوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اورایک رہے گا۔باقی سندھ کی لوٹ ماراورعوام کے حقوق غصب کرنے والوں کے خلاف جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ رمضان شریف کا مہینہ اپنی تربیت کے ساتھ ساتھ ظلم و ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا پیغام دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ جامعہ اسلامیہ بدین میں دعوت افطار کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرمدیر جامعہ فتح خان کھوسو اور دیگر مقامی قائدین نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکمراں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے نئے نئے شوشے چھوڑ کرعوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کراچی تاکشمور عوام کے مسائل کا حل بااختیار وباوسائل بلدیاتی نظام ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔