بنگلہ دیش انتخابات : مذہبی جماعتیں کیوں ناکام ہُوئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں12 فروری کو ہونے والے معرکہ آرا پارلیمانی انتخابات اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔ بارہ کروڑ50لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی ووٹروں نے اپنا حقِ رائے دہی اپنی مرضی و منشا سے استعمال کیا۔50سے زائد سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا، مگر 42سیاسی جماعتیں مکمل طور پر ناکام ہو گئیں ۔ سات سیاسی جماعتوں کو صرف ایک ایک سِیٹ پر کامیابی مل سکی ہے۔ وہ پھر بھی مطمئن ہیں۔
یہ انتخابات شفاف بھی کہے گئے ہیں اور غیر جانبدار بھی ۔ اِکا دُکا ناقابلِ ذکر واقعات کے سوا، بنگلہ دیشیوں نے تمام پولنگ اسٹیشنز کو پُر امن رکھا۔ مذکورہ پارلیمانی انتخابات کی نگرانی کرنے والے عالمی اداروں ، انٹرنیشنل آبزرورز، بنگلہ دیش پہنچنے والے سیکڑوں غیر ملکی صحافیوں اور یورپین یونین ، سبھی نے بیک زبان اقرار و اعتراف کیا ہے کہ 12فروری کے بنگلہ دیشی انتخابات فیئر اینڈ فری تھے ۔یوں ہم نوبل انعام یافتہ ( پروفیسر محمد یونس) کی زیر نگرانی بنگلہ دیش کی (سابقہ) عبوری حکومت کو شاباش دے سکتے ہیں ۔
مذکورہ بنگلہ دیشی انتخابات میں ’’عوامی لیگ‘‘ کو انتخابات سے باہر رکھا گیا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم(شیخ حسینہ واجد) پر متعدد سنگین الزامات عائد تھے ۔ اِسی وجہ سے حسینہ واجد کی حکومت اگست2024میں ختم ہو گئی تھی اور حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار ہو کر بھارت پناہ گزیں ہو گئی تھیں ۔ موصوفہ اب تک وہیں ہیں۔ حسینہ واجد کی غیر حاضری میں بنگلہ دیشی عدالت نے اُنہیں سزائے موت بھی سنائی۔ پروفیسر محمد یونس کی عبوری حکومت نے بھارت سے کئی بار مطالبہ کیا کہ مجرم و سزا یافتہ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کیا جائے ۔ یہ مطالبہ مگر ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا۔
بارہ فروری کے انتخابات کا ایک اہم منظر یہ بھی سامنے آیا کہ بنگلہ دیش کے جن انقلابی اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حسینہ واجد کا تختہ اُلٹ کر نئی سیاسی جماعت(NCP)بنائی تھی ، وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی ۔’’این سی پی ‘‘ کے سربراہ ناہید اسلام ہیں۔ اُن کی پارٹی صرف 7سیٹیں حاصل کر سکی ہے۔ حالانکہ اندازے یہی تھے کہ NCPبھاری اکثریت سے انتخابات جیتے گی ۔ بنگلہ دیش کی سیاست و انتخابات پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ’’نیشنل سٹیزن پارٹی‘‘ یعنی ’’این سی پی‘‘ کو اس لیے انتخابات میں شکست ہُوئی ہے کہ اُس نے بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی سے انتخابی اتحاد کیا تھا ۔
اندازے اور توقعات تو یہ بھی تھیں کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ( جس کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن ہیں)، بھی بھاری اکثریت سے انتخابات جیت کر حکمران جماعت بن جائے گی ۔ ہم نے تو اِنہی اندازوں اور قیافوں کی اساس پر اِنہی صفحات پر ’’ کیا جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کا اقتدار سنبھالنے کو تیار ہے؟‘‘ کے زیر عنوان کالم بھی لکھ دیا تھا ۔ مگر جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش ، دیگر کئی بنگلہ دیشی مذہبی جماعتوں کی طرح، ایسی بھاری کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی ہے کہ بنگلہ دیش کے اقتدار پر براجمان ہو سکے ۔
عام پارلیمانی انتخابات نے یہ سنہری اور تاریخی موقع BNP ( بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) کو عطا کیا ہے ۔ بی این پی دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل کر کے حکمران جماعت بن چکی ہے۔ بی این پی کے سربراہ جناب طارق رحمن بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم بھی بن چکے ہیں اور 24رکنی کابینہ بھی تشکیل دے چکے ہیں ۔جناب طارق رحمن کے والد گرامی( جنرل ضیاء الرحمن مرحوم ) بھی بنگلہ دیش کے صدر تھے( پارٹی کے بانی بھی) اور اُن کی والدہ محترمہ( خالدہ ضیاء مرحومہ) بھی بنگلہ دیش کی وزیر اعظم رہی ہیں ۔
بنگلہ دیش کے بارہ فروری2026کے انتخابات میں اصل مقابلہ ’’بی این پی ‘‘ اور ’’جماعتِ اسلامی ‘‘ ہی میں تھا۔ جماعتِ اسلامی کو مگر صرف 77سیٹوں پر کامیابی ملی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یہ بھی عظیم الشان انتخابی کامیابی ہے۔ خاص طور پر جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اتنی سیٹیں تو کسی جنرل الیکشن میں پاکستان کی جماعتِ اسلامی کو بھی پچھلے78برسوں میں کبھی نہیں مل سکی ہیں۔
اِس پس منظرمیں بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی کی یہ کامیابی ایک عظیم الشان کامیابی ہی نظر آنی چاہیے۔ مگر جماعتِ اسلامی کے نقادوں اور مخالفین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں جماعت ِ اسلامی کو انتخابی شکست ہُوئی ہے ۔ حتمی انتخابی نتائج کے بعد بظاہر تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے۔ ویسے بنگلہ دیش کی کئی دیگر اسلامی ومذہبی جماعتوں کو حالیہ تازہ انتخابات میں زبردست شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مثال کے طور پر :بنگلہ دیش خلافت مجلس کو 2، اور خلافت مجلس( زی) و اسلامی اندولن بنگلہ دیش نے محض ایک ایک سِیٹ جیتی ہے۔بنگلہ دیش میں بروئے کار ’’جمعیت العلمائے اسلام‘‘ (جس کے سربراہ مولانا ممنون الحق ہیں) تو ایک بھی سِیٹ نہیں جیت سکی ، حالانکہ اِس جماعت کے بنگلہ دیش کی تبلیغی جماعت میں گہرے اثرات ہیں ۔
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے اقتدار حاصل کرنے میں ناکامی کی ایک وجہ بیان کرتے ہُوئے مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’’ بنگلہ دیش کی کئی مذہبی جماعتیں بھی جماعتِ اسلامی کے خلاف تھیں ۔ مثلاً: جے یو آئی کے دو بڑے علماء نے جماعتِ اسلامی کے خلاف فتویٰ دیا کہ اِسے ووٹ دینا حرام ہے۔ اِسی طرح بنگلہ دیش کی بریلوی جماعت کے وابستگان نے بھی جماعتِ اسلامی کو ووٹ نہیں دیے ۔‘‘ اگر ہم ’’برکلے سینٹر‘‘ میں شائع شدہ لامیا کریم کا تفصیلی مقالہ بعنوان Tableghi Jamaat and Regulation of Women in Bangladeshکامطالعہ کریں توسمجھ آ جاتی ہے کہ بنگلہ دیش کی ’’جمعیت العلمائے اسلام‘ کو بارہ فروری کے انتخابات میں زبردست شکست کیوں ہُوئی ؟ ہمارا بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش توقعات کے مطابق بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکی ؟ بعض باخبر حلقے اور بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی پر کڑی نظر رکھنے والے محققین کا دعویٰ ہے کہ اِس انتخابی شکست کے اصل ذمے دار خود امیرِ جماعت ہیں۔
انتخابات کی گرمی کے عین درمیان میں جماعتِ اسلامی کے ایک معروف لیڈر ( ٹھاکر گاؤں ضلع کے امیر بلال الدین) ائر پورٹ پر نقد 50لاکھ ٹکہ کے ساتھ گرفتار کیے گئے ۔ حالانکہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت نے بہتیرا شور مچایا کہ یہ رقم کسی انتخابی مقصد کے لیے نہیں تھی ، بلکہ اُن کی کاروباری تھی، مگر جماعت کے مخالفین نے اِس بنیاد پر بے حد منفی پروپیگنڈہ کیا ۔
پھر انتخابات سے قبل امیرِ جماعت ، ڈاکٹر شفیق الرحمن ، سے منسوب ایک ایسے ٹویٹ میسج نے خواتین ووٹروں کو بددل کر دیا جس میں مبینہ طور پر بنگلہ دیشی خواتین کی توہین کا پہلو نکلتا تھا ۔ جماعتِ اسلامی نے سوشل میڈیااور مین اسٹریم میڈیا پر اِس کی وضاحت کرتے ہُوئے بہت کہا کہ ’’امیرِ جماعت کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کرکے یہ میسج ٹائپ کیا گیا‘‘ مگر تب تک ٹوئیٹر میسج اپنا منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر چکا تھا ۔ بعد ازاں اِس ٹویٹ میسج کو جماعت والوں نے ڈیلیٹ بھی کر دیا ۔
انتخابات سے چند دن قبل امیرِ جماعت بنگلہ دیش( ڈاکٹر شفیق الرحمن صاحب) نے ’’الجزیرہ‘‘ کے صحافی(معصوم باللہ) کو جو تفصیلی انٹرویو دیا تھا، اِس نے بھی بنگلہ دیشی خواتین ووٹروں کو جماعت سے دُور کر دیا ۔ خواتین بارے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امیرِ جماعت نے کہا تھا:’’ مرد بچہ جَن سکتا ہے نہ مرد اپنی چھاتی سے بچے کو دُودھ پلا سکتا ہے ۔ہم اللہ کی تقسیم نہیں بدل سکتے ۔ہم خواتین کو الیکشن لڑنے کے لیے جماعت کا ٹکٹ دے سکتے ہیں نہ کوئی خاتون جماعت کی سربراہ بن سکتی ہے ۔‘‘اِس بیان پر جماعتِ اسلامی کی مخالف جماعتوں نے یہ کہہ کر کہ ’’جماعتِ اسلامی خواتین کی برابری کی دشمن ہے ‘‘ اور یہ کہ’’ جماعتِ اسلامی خواتین کے بنیادی حقوق بھی تسلیم کرنے سے انکاری ہے ‘‘ ، خوب منفی پروپیگنڈہ کیا۔
جماعت کے خلاف انتخابی بھَد اُڑانے کی کوششیں کی گئیں ۔ جماعت مخالف بعض بنگلہ دیشی ’’دانشوروں‘‘ نے تو یہاں تک کہا کہ ’’ایران اور افغانستان میں مقتدر مذہبی جماعتیں خواتین سے جو سلوک کررہی ہیں ، کیا اِس پیش منظر میں بنگلہ دیشی خواتین جماعتِ اسلامی کو ووٹ دینے کا رِسک لے سکتی ہیں؟۔‘‘ گویا جماعتِ اسلامی کو ہرانے کے لیے کئی قوتیں میدان میں کود پڑی تھیں ۔ بھارت کا خفیہ ہاتھ الگ کارفرما تھا ۔ ’’عوامی لیگ‘‘ کے ووٹ بھی جماعت کی حریف(بی این پی کو) پڑے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلامی بنگلہ دیش بنگلہ دیش میں انتخابات میں بنگلہ دیش کے بنگلہ دیش کی کہ بنگلہ دیش حسینہ واجد بنگلہ دیشی اسلامی کو اسلامی کے بی این پی جماعت کے بھی بن
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔