مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیاہوا ہے‘ ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف ر پورٹر ) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ہفتے کو سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرارداد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے۔ کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہاکہ ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے۔ خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب ایک اہم موڑ میں داخل ہوگئے ہیں، اب فیصلہ کرناہے۔ انہوں نے سوال اٹھایاکہ یہ کیسا انصاف ہے کہ 170 سیٹ لینے والاجیل میں اور 80 سیٹ لینے والاحکومت میں ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نیسندھ پرقبضہ کیاہوا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہے اور ایم کیو ایم امن سے رہنے کی خواہش رکھنے والی جماعت ہے۔ چیئرمین ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے ہوتے ہوئے ’سندھو دیش‘ کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ پورے پاکستان کا سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے اور شہری علاقوں کے ساتھ گزشتہ پچاس برسوں سے ناانصافی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 239 نئے صوبوں کی تشکیل کی اجازت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 140 اے کے تحت بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینا لازم ہے، لیکن پیپلز پارٹی اپنے ہی میئر کو بااختیار بنانے کو تیار نہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 کی شق 6 ریفرنڈم کی بھی اجازت دیتا ہے اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہ ہوا تو وہ دوبارہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی نے کہا ایم کیو ایم نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔