امریکا سے بات چیت کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، امریکی اقدامات پر کڑی نظر ہے، ڈاکٹر مسعود پزشکیان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بات چیت کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں، امریکی اقدامات پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ حالیہ مذاکرات میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا اور حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ہم امریکا کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے لیے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی نمایندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے جنیوا میں جمعرات کو ملاقات ہوسکتی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سفارتی حل کا اچھا امکان موجود ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں نے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔