موٹر بائیکس پر ایم ٹیگ لگانے کا عمل شروع، فیس کتنی ہے اور کہاں سے لگوا سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے دارالحکومت اسلام آباد میں سیکیورٹی اور ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے موٹر سائیکلوں کی باقاعدہ ڈیجیٹل ٹیگنگ شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگز لگانے کا سلسلہ 20 فروری سے شروع ہوا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے شہر میں چلنے والی تمام موٹر سائیکلوں کا مکمل ریکارڈ دستیاب ہوگا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری شناخت اور ٹریکنگ میں مدد ملے گی۔
اس حوالے سے ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم نے بتایا کہ شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ موٹر سائیکل سوار اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں ڈیجیٹل پارکنگ اور ایم ٹیگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 3 روز کے دوران 2000 سے زائد موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگائے جا چکے ہیں، جبکہ موٹر کارز پر اب تک 233,000 سے زائد ایم ٹیگز لگانے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ یہ اقدام ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
اسلام آباد میں مختلف مقامات پر موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ لگانے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جن میں جناح پارک (F-9)، پولیس چیک پوسٹ (G-14)، گلبرگ گرین، ملپور، فیض آباد، گندم گودام نزد تھانہ سبزی منڈی، دامنِ کوہ (مری روڈ کے قریب)، ٹیولپ ہوٹل، روات ٹی کراس، نائنتھ ایونیو اور مارگلہ ایونیو شامل ہیں۔ شہری اپنی سہولت کے مطابق ان مقامات پر جا کر ایم ٹیگ لگوا سکتے ہیں۔
ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے فوری طور پر اپنی موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ چسپاں کرنے کو یقینی بنائیں اور متعلقہ حکام کے ساتھ تعاون کریں۔
موٹر بائیکس پر ایم ٹیگ لگوانے کا کیا فائدہ ہوگا؟ڈائریکٹر ایکسائز کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد شہر میں امن و امان کی صورتِ حال کو بہتر بنانا، چوری شدہ موٹر سائیکلوں کی بروقت نشاندہی کرنا اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے شہری نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا اور ٹریفک مینجمنٹ بھی بہتر بنائی جا سکے گی۔ اسی سلسلے میں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مراکز پر جا کر اپنی موٹر سائیکل کا ایم ٹیگ حاصل کریں تاکہ کسی قانونی کارروائی سے بچ سکیں۔
موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ کیسے لگوایا جاسکتا ہے؟ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کے لیے شہریوں کو اپنی موٹر سائیکل کے کاغذات اور اصل شناختی کارڈ ساتھ لے جانا ہوگا، جہاں چند منٹ میں ٹیگ جاری کر کے موٹر سائیکل پر چسپاں کر دیا جائے گا۔
انتظامیہ نے اس عمل کو آسان بنانے کے لیے مختلف رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے ہیں تاکہ شہریوں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے اور جلد از جلد تمام موٹر سائیکلوں کی ٹیگنگ مکمل ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں ایم ٹیگ کن 7 مقامات سے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟
ایک سوال کے جواب میں ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن بلال اعظم نے وضاحت کی کہ موٹر بائیکس پر لگائے جانے والے ایم ٹیگ کی قیمت 250 روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایم ٹیگ موٹر سائیکل کے اسپیڈو میٹر پر نصب کیا جا رہا ہے تاکہ یہ محفوظ رہے اور اس کی ریڈنگ باآسانی ممکن ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ چسپاں کیا جانے والا ایم ٹیگ واٹر ریزسٹنٹ ہے اور اسے موسمی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے جدید معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ بارش، دھول یا دیگر موسمی حالات اس کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوں گے، لہٰذا شہری بلا جھجھک اپنی موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ چسپاں کروا سکتے ہیں۔
ایم ٹیگ نہ لگوانے والوں کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوگی؟حکام نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد بغیر ایم ٹیگ موٹر سائیکل چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں جرمانہ یا موٹر سائیکل ضبط کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مہم میں تعاون کریں اور جلد اپنی رجسٹریشن مکمل کرائیں۔
عوام کی جانب سے اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ بعض شہریوں نے اسے سیکیورٹی کے لیے ضروری قدم قرار دیا ہے، جبکہ بعض افراد نے مزید سہولت مراکز، واضح ہدایات اور عوامی آگاہی مہم بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم ٹیگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم ٹیگ ڈائریکٹر ایکسائز اپنی موٹر سائیکل قانونی کارروائی اسلام آباد میں موٹر سائیکل پر موٹر سائیکلوں پر ایم ٹیگ شہریوں کو انہوں نے بتایا کہ کے لیے
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ