Islam Times:
2026-06-02@23:25:31 GMT

معرکہِ حق و باطل، خندق کی آزمائش سے عصرِ حاضر کی استقامت تک

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

معرکہِ حق و باطل، خندق کی آزمائش سے عصرِ حاضر کی استقامت تک

اسلام ٹائمز: رہبرِ معظم کا وہ تاریخی جملہ، جو انہوں نے بحری مشقوں کے بعد کہا تھا، نہ صرف آپکی ایمانی پختگی کا عکاس ہے، بلکہ دراصل اسی خندق والی ثابت قدمی کا جدید روپ اور تجدد کردار ہے۔ جسطرح مولا علیؑ نے عمرو بن عبدود کے سامنے کھڑے ہوکر باطل کے رعب کو ختم کیا تھا، اسی ثابت قدمی سے الہام لیتے ہوئے رہبرِ مستضعفین جہاں آج کے دور میں دنیا کے مظلوموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم حق پر ڈٹ جاؤ تو دنیا کا کوئی بھی "بیڑا" تمہارے ارادوں کو نحیف نہیں کرسکتا، بلکہ وہ خود تمہاری استقامت کے سمندر میں ڈوب جائیگا۔ رہبر فرماتے ہیں: "دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے، لیکن ہمارے پاس ایمان اور شہادت کا جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کو توڑا جا سکتا ہے، لیکن جسکے دل میں موت کا خوف نہ ہو، اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔" ان شاء الله فرعون، شداد، نمرود اور مشرکین مکہ کی طرح امریکہ و استعماری طاقتوں کو شکست فاش کے ساتھ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ تحریر: وقار مفکری

آج کے عالمی حالات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو جنگ احزاب کا معرکہ تکرار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جب یہودیوں اور مشرکین مکہ کے گٹھ جوڑ نے مدینہ کے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ محاصرے میں لیا تھا۔ اس لشکر میں مدینہ سے جلا وطن ہونے والے بنی نضیر اور بنی قینقاع کے یہودی اور غطفان، بنو سلیم، فزارہ، مرہ، اشجع، سعد اور اسد وغیرہ کے قبائل اور قریش کا ایک بڑا لشکر بھی شامل تھا۔ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از وقت اس خطرناک حملے کا علم ہو جاتا ہے۔ دفاعی تدبیر کے طور پر حضرت سلمان فارسی (رض) کے مشورے پر شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی اور شہر کو محفوظ کر لیا گیا۔

مخالفین اس جنگی تدبیر سے نابلد تھے۔ اس نئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کے پاس صرف ایک صورت رہتی تھی کہ وہ مدینہ میں آباد بنی قریظہ کے یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ توڑنے پر آمادہ کریں، چونکہ سابقہ معاہدے کی وجہ سے اس یہودی علاقے میں مسلمانوں نے کوئی دفاعی انتظام نہیں کیا تھا۔ دشمن نے اس علاقے سے فائدہ اٹھانے کو ہی غنیمت سمجھا۔ چنانچہ بنی نضیر کا وفد بنی قریظہ کے ہاں گیا اور انہیں عہد توڑنے پر آمادہ کیا، جس سے مسلمانوں میں نہایت بے چینی پیدا ہوگئی۔ جسے قرآن نے ان لفظوں کے ساتھ ذکر کیا ہے: "وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا" (سورہ احزاب۔۱۰) "اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور مارے دہشت کے دل منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔" (آج بھی  ضعیف الایمان افراد کی یہی صورتحال ہے)

چنانچہ شہر کا وہ علاقہ بھی غیر محفوظ ہوگیا، جہاں دفاع کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس موقع پر بعض منافقین نے تو یہ تک کہنا شروع کیا کہ محمد قیصر و کسریٰ کی فتح کی نوید سناتے ہیں، ادھر ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ ان کٹھن حالات میں جب مستکبرین کے سب سے بڑے نمائندے عمرو بن عبدود نے اپنی طاقت کے زعم میں للکارنا شروع کیا، مسلمانوں کے عقیدہ جنت کا تمسخر اڑاتے ہوئے پوچھا کہ "تمہاری وہ جنت کہاں ہے، جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟" تو اس سوال کا جواب کسی مادی ہتھیار کے پاس نہیں بلکہ اس "روحِ علیؑ" کے پاس تھا، جو موت کو ابدی زندگی کا دروازہ سمجھتی تھی۔ ان حالات میں حضرت علی علیہ السلام کا بار بار "میں حاضر ہوں یا رسول اللہ!" پکارنا محض ایک شخص کی آمادگی نہیں تھی بلکہ یہ اس مکتب کا باطل کے سامنے ڈٹ جانے کے ابدی منشور کا اعلان تھا۔

نیز رسول اللہﷺ کا یہ فرمانا کہ "یہ عمرو ہے" یعنی یہ دشمن کی طاقت کی انتہاء ہے اور اس کے جواب میں علی ابنِ ابی طالبؑ کا یہ کہنا کہ "پھر بھی حاضر ہوں" یہ وہ نقطہ ہے، جہاں الله تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین کا اظہار واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ یہی کردار کا تاریخی تسلسل ہے، جو مختلف شخصیات کے روپ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امام خمینیؒ نے اسی فلسفے کو حیات نو بخشی۔ امام راحل کا وہ تاریخی جملہ کہ "امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا" دراصل اسی خندق والے یقین کا تسلسل تھا، جس نے مادی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔ نیز ایران کا گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی استکبار کے تمام تر محاصروں اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ثابت کرتا ہے کہ جب ایک قوم "حق پر ہونے" کے ادراک کے ساتھ باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم کرتی ہے تو وہ شکست ناپذیر ہو جاتی ہے۔

رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای اسی استقامت اور دشمن کے مکرو فریب کی نقب کشائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "مقاومت کی قیمت تسلیم ہونے کی قیمت سے کہیں کم ہے۔" ان کا یہ قول سورہ احزاب کی اُن آیات کی عملی تفسیر ہے، جہاں منافقین ڈر کر پیچھے ہٹ رہے تھے، لیکن صاحب کل ایمان اپنی ذمہ داری پر ڈٹا رہا۔ لہذا تاریخ گواہ ہے اگر ایمان متزلزل نہ ہو تو دشمن کی ہر تدبیر  الٹا اس کے اپنے زوال کا سبب بن جایا کرتی ہے اور حق اسی شان سے پروان چڑھتا ہے۔ اس حقیقت کا اظہار علی کی شیر دل بیٹی جناب زینب (س) نے ان الفاظ میں کیا تھا: "فَکِدْ کَیْدَکَ، وَاسْعَ سعَیْکَ، وَنَاصِبْ جُهْدَکَ، فَوَاللهِ لا تَمْحُو ذِکْرَنَا.

.."و ​"اے یزید! تو جتنی چاہے مکاریاں چل لے اور جتنی چاہے کوششیں کر دیکھ اور جتنا چاہے زور لگا لےو پس خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو کبھی نہیں مٹا سکے گا۔"

قرآن مجید اور سیرتِ معصومین سے یہی پیغام ملتا ہے کہ اہل ایمان دشمن کی ظاہری ہیبت سے مرعوب نہیں ہوتےو بلکہ وہ استکبار کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔ یہ استقامت محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک الہیٰ وعدہ پر اعتقاد کا اظہار ہے کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے مٹنا ہی ہے نیز حق کی فطرت ہی غالب آنا ہے۔ "وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" (سورہ اسرا، ۸۱) "اور کہہ دیجئے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل کو تو یقیناً مٹنا ہی تھا۔" المختصر رہبرِ معظم کا وہ تاریخی جملہ، جو انہوں نے بحری مشقوں کے بعد کہا تھا، نہ صرف آپ کی ایمانی پختگی کا عکاس ہے، بلکہ دراصل اسی خندق والی ثابت قدمی کا جدید روپ اور تجدد کردار ہے۔

جس طرح مولا علیؑ نے عمرو بن عبدود کے سامنے کھڑے ہو کر باطل کے رعب کو ختم کیا تھا، اسی ثابت قدمی سے الہام لیتے ہوئے رہبرِ مستضعفین جہاں آج کے دور میں دنیا کے مظلوموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم حق پر ڈٹ جاؤ تو دنیا کا کوئی بھی "بیڑا" تمہارے ارادوں کو نحیف نہیں کرسکتا، بلکہ وہ خود تمہاری استقامت کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ رہبر فرماتے ہیں: "دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے، لیکن ہمارے پاس ایمان اور شہادت کا جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کو توڑا جا سکتا ہے، لیکن جس کے دل میں موت کا خوف نہ ہو، اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔" ان شاء الله فرعون، شداد، نمرود اور مشرکین مکہ کی طرح امریکہ و استعماری طاقتوں کو شکست فاش کے ساتھ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے سامنے کیا تھا کے ساتھ باطل کے کے پاس

پڑھیں:

ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔

https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247

قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی