Islam Times:
2026-07-24@03:30:54 GMT

معرکہِ حق و باطل، خندق کی آزمائش سے عصرِ حاضر کی استقامت تک

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

معرکہِ حق و باطل، خندق کی آزمائش سے عصرِ حاضر کی استقامت تک

اسلام ٹائمز: رہبرِ معظم کا وہ تاریخی جملہ، جو انہوں نے بحری مشقوں کے بعد کہا تھا، نہ صرف آپکی ایمانی پختگی کا عکاس ہے، بلکہ دراصل اسی خندق والی ثابت قدمی کا جدید روپ اور تجدد کردار ہے۔ جسطرح مولا علیؑ نے عمرو بن عبدود کے سامنے کھڑے ہوکر باطل کے رعب کو ختم کیا تھا، اسی ثابت قدمی سے الہام لیتے ہوئے رہبرِ مستضعفین جہاں آج کے دور میں دنیا کے مظلوموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم حق پر ڈٹ جاؤ تو دنیا کا کوئی بھی "بیڑا" تمہارے ارادوں کو نحیف نہیں کرسکتا، بلکہ وہ خود تمہاری استقامت کے سمندر میں ڈوب جائیگا۔ رہبر فرماتے ہیں: "دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے، لیکن ہمارے پاس ایمان اور شہادت کا جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کو توڑا جا سکتا ہے، لیکن جسکے دل میں موت کا خوف نہ ہو، اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔" ان شاء الله فرعون، شداد، نمرود اور مشرکین مکہ کی طرح امریکہ و استعماری طاقتوں کو شکست فاش کے ساتھ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ تحریر: وقار مفکری

آج کے عالمی حالات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو جنگ احزاب کا معرکہ تکرار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جب یہودیوں اور مشرکین مکہ کے گٹھ جوڑ نے مدینہ کے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے پوری تیاری کے ساتھ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ محاصرے میں لیا تھا۔ اس لشکر میں مدینہ سے جلا وطن ہونے والے بنی نضیر اور بنی قینقاع کے یہودی اور غطفان، بنو سلیم، فزارہ، مرہ، اشجع، سعد اور اسد وغیرہ کے قبائل اور قریش کا ایک بڑا لشکر بھی شامل تھا۔ دوسری جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قبل از وقت اس خطرناک حملے کا علم ہو جاتا ہے۔ دفاعی تدبیر کے طور پر حضرت سلمان فارسی (رض) کے مشورے پر شہر مدینہ کے گرد خندق کھودی گئی اور شہر کو محفوظ کر لیا گیا۔

مخالفین اس جنگی تدبیر سے نابلد تھے۔ اس نئی صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کے پاس صرف ایک صورت رہتی تھی کہ وہ مدینہ میں آباد بنی قریظہ کے یہودیوں کو مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ توڑنے پر آمادہ کریں، چونکہ سابقہ معاہدے کی وجہ سے اس یہودی علاقے میں مسلمانوں نے کوئی دفاعی انتظام نہیں کیا تھا۔ دشمن نے اس علاقے سے فائدہ اٹھانے کو ہی غنیمت سمجھا۔ چنانچہ بنی نضیر کا وفد بنی قریظہ کے ہاں گیا اور انہیں عہد توڑنے پر آمادہ کیا، جس سے مسلمانوں میں نہایت بے چینی پیدا ہوگئی۔ جسے قرآن نے ان لفظوں کے ساتھ ذکر کیا ہے: "وَ اِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَ بَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوۡنَ بِاللّٰہِ الظُّنُوۡنَا" (سورہ احزاب۔۱۰) "اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور مارے دہشت کے دل منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔" (آج بھی  ضعیف الایمان افراد کی یہی صورتحال ہے)

چنانچہ شہر کا وہ علاقہ بھی غیر محفوظ ہوگیا، جہاں دفاع کا کوئی انتظام نہ تھا۔ اس موقع پر بعض منافقین نے تو یہ تک کہنا شروع کیا کہ محمد قیصر و کسریٰ کی فتح کی نوید سناتے ہیں، ادھر ہم رفع حاجت کے لیے بھی نہیں نکل سکتے۔ ان کٹھن حالات میں جب مستکبرین کے سب سے بڑے نمائندے عمرو بن عبدود نے اپنی طاقت کے زعم میں للکارنا شروع کیا، مسلمانوں کے عقیدہ جنت کا تمسخر اڑاتے ہوئے پوچھا کہ "تمہاری وہ جنت کہاں ہے، جس کا تم دعویٰ کرتے ہو؟" تو اس سوال کا جواب کسی مادی ہتھیار کے پاس نہیں بلکہ اس "روحِ علیؑ" کے پاس تھا، جو موت کو ابدی زندگی کا دروازہ سمجھتی تھی۔ ان حالات میں حضرت علی علیہ السلام کا بار بار "میں حاضر ہوں یا رسول اللہ!" پکارنا محض ایک شخص کی آمادگی نہیں تھی بلکہ یہ اس مکتب کا باطل کے سامنے ڈٹ جانے کے ابدی منشور کا اعلان تھا۔

نیز رسول اللہﷺ کا یہ فرمانا کہ "یہ عمرو ہے" یعنی یہ دشمن کی طاقت کی انتہاء ہے اور اس کے جواب میں علی ابنِ ابی طالبؑ کا یہ کہنا کہ "پھر بھی حاضر ہوں" یہ وہ نقطہ ہے، جہاں الله تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین کا اظہار واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ یہی کردار کا تاریخی تسلسل ہے، جو مختلف شخصیات کے روپ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امام خمینیؒ نے اسی فلسفے کو حیات نو بخشی۔ امام راحل کا وہ تاریخی جملہ کہ "امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا" دراصل اسی خندق والے یقین کا تسلسل تھا، جس نے مادی طاقت کے بت کو پاش پاش کر دیا۔ نیز ایران کا گذشتہ کئی دہائیوں سے عالمی استکبار کے تمام تر محاصروں اور معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ثابت کرتا ہے کہ جب ایک قوم "حق پر ہونے" کے ادراک کے ساتھ باطل کے سامنے ڈٹ جانے کا عزم کرتی ہے تو وہ شکست ناپذیر ہو جاتی ہے۔

رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای اسی استقامت اور دشمن کے مکرو فریب کی نقب کشائی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "مقاومت کی قیمت تسلیم ہونے کی قیمت سے کہیں کم ہے۔" ان کا یہ قول سورہ احزاب کی اُن آیات کی عملی تفسیر ہے، جہاں منافقین ڈر کر پیچھے ہٹ رہے تھے، لیکن صاحب کل ایمان اپنی ذمہ داری پر ڈٹا رہا۔ لہذا تاریخ گواہ ہے اگر ایمان متزلزل نہ ہو تو دشمن کی ہر تدبیر  الٹا اس کے اپنے زوال کا سبب بن جایا کرتی ہے اور حق اسی شان سے پروان چڑھتا ہے۔ اس حقیقت کا اظہار علی کی شیر دل بیٹی جناب زینب (س) نے ان الفاظ میں کیا تھا: "فَکِدْ کَیْدَکَ، وَاسْعَ سعَیْکَ، وَنَاصِبْ جُهْدَکَ، فَوَاللهِ لا تَمْحُو ذِکْرَنَا.

.."و ​"اے یزید! تو جتنی چاہے مکاریاں چل لے اور جتنی چاہے کوششیں کر دیکھ اور جتنا چاہے زور لگا لےو پس خدا کی قسم! تو ہمارے ذکر کو کبھی نہیں مٹا سکے گا۔"

قرآن مجید اور سیرتِ معصومین سے یہی پیغام ملتا ہے کہ اہل ایمان دشمن کی ظاہری ہیبت سے مرعوب نہیں ہوتےو بلکہ وہ استکبار کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ڈٹ جاتے ہیں۔ یہ استقامت محض ایک سیاسی موقف نہیں بلکہ ایک الہیٰ وعدہ پر اعتقاد کا اظہار ہے کہ باطل کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے مٹنا ہی ہے نیز حق کی فطرت ہی غالب آنا ہے۔ "وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" (سورہ اسرا، ۸۱) "اور کہہ دیجئے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل کو تو یقیناً مٹنا ہی تھا۔" المختصر رہبرِ معظم کا وہ تاریخی جملہ، جو انہوں نے بحری مشقوں کے بعد کہا تھا، نہ صرف آپ کی ایمانی پختگی کا عکاس ہے، بلکہ دراصل اسی خندق والی ثابت قدمی کا جدید روپ اور تجدد کردار ہے۔

جس طرح مولا علیؑ نے عمرو بن عبدود کے سامنے کھڑے ہو کر باطل کے رعب کو ختم کیا تھا، اسی ثابت قدمی سے الہام لیتے ہوئے رہبرِ مستضعفین جہاں آج کے دور میں دنیا کے مظلوموں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اگر تم حق پر ڈٹ جاؤ تو دنیا کا کوئی بھی "بیڑا" تمہارے ارادوں کو نحیف نہیں کرسکتا، بلکہ وہ خود تمہاری استقامت کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ رہبر فرماتے ہیں: "دشمن کے پاس ٹیکنالوجی ہے، لیکن ہمارے پاس ایمان اور شہادت کا جذبہ ہے۔ ٹیکنالوجی کو توڑا جا سکتا ہے، لیکن جس کے دل میں موت کا خوف نہ ہو، اسے کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔" ان شاء الله فرعون، شداد، نمرود اور مشرکین مکہ کی طرح امریکہ و استعماری طاقتوں کو شکست فاش کے ساتھ ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے سامنے کیا تھا کے ساتھ باطل کے کے پاس

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف