Jasarat News:
2026-07-24@05:25:55 GMT

وہ ایک راز جو ہم نے الماری میں چھپا دیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260223-03-8
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ لفظوں کی بھی اپنی ایک عمر ہوتی ہے؟ یہ پیدا ہوتے ہیں، جوان ہوتے ہیں، اپنا لباس بدلتے ہیں اور پھر بوڑھے ہو کر مر جاتے ہیں یا اپنا مفہوم مکمل طور پر تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ دنیا کا ایک ایسا حیرت انگیز سچ ہے جس پر ہم عام طور پر غور نہیں کرتے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے لسانیات کے ایک ماہر جے پامر (J.

Palmer) کی ایک کتاب شائع ہوئی، جس میں اس نے ایک ایسا اصول بیان کیا جو ہمیں ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’’لفظ کی شکل تو وہی رہتی ہے لیکن اس کا مفہوم وقت کے ساتھ ساتھ بدل جاتا ہے‘‘۔ آپ مثال دیکھیے۔ آج ہم کسی کو ’’نائس‘‘ (Nice) کہیں تو وہ خوش ہوتا ہے اور شکریہ ادا کرتا ہے، لیکن آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ دو تین سو سال پہلے انگریزی میں ’’نائس‘‘ ایک نہایت بھدی گالی ہوا کرتا تھا۔ اسی طرح انگریزی کا مشہور شاعر ورڈز ورتھ (Wordsworth) لکھتا ہے کہ ’’ایک شاعر کو ’گے‘ (Gay) ہونا چاہیے‘‘۔ آج کے دور میں اس لفظ کا مطلب کچھ اور ہے، لیکن اس دور میں اس کا مطلب ایک ’’خوش باش انسان‘‘ ہوتا تھا۔

اردو زبان کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ میر امن دہلوی نے جب ’’باغ و بہار‘‘ لکھی تو انہوں نے عورت کے لیے وہ لفظ استعمال کیا جسے آج ہم گالی سمجھتے ہیں۔ میر تقی میر، جنہیں ہم خدائے سخن کہتے ہیں، انہوں نے بارش میں اپنا گھر گرنے پر اپنی حالت بیان کرنے کے لیے جو لفظ استعمال کیا، آج وہ لفظ کسی شریف محفل میں نہیں بولا جا سکتا۔ اسی طرح ’’امیر‘‘ کا مطلب کبھی لیڈر ہوتا تھا، ’’غریب‘‘ کا مطلب مسافر یا اجنبی ہوتا تھا، مگر آج یہ الفاظ مالی حیثیت کی علامت بن چکے ہیں۔

دنیا کی ہر زبان میں لفظوں کے معنی بدل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل جب بھی چھپتی ہے، اس کا ایک ’’ریوائزڈ ورژن‘‘ آتا ہے۔ 1992 کے ایک ایڈیشن میں تین ہزار ایسے الفاظ کی فہرست دی گئی جن کے معنی بدل چکے تھے، لہٰذا بائبل کا متن بدلنا پڑا۔ زرتشتوں کی کتاب ہو یا ہندوؤں کے وید اور پران، ہر پچاس سال بعد ان کا ٹیکسٹ بدل جاتا ہے کیونکہ پرانے الفاظ اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ لیکن یہاں رُک کر ایک لمحے کے لیے سوچیے۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایک ایسی کتاب بھی ہے جس کے 25 ہزار الفاظ نے چودہ سو سال سے اپنا مفہوم نہیں بدلا۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ہم ’’قرآن‘‘ کہتے ہیں۔ یہ اس کائنات کا سب سے بڑا لسانیاتی معجزہ ہے کہ اس کا ہر لفظ آج بھی اسی معنی میں استعمال ہو رہا ہے جس میں اللہ کے رسولؐ نے صحابہ کو سکھایا تھا۔

پاکستان کے ایک بہت بڑے ماہر ِ لسانیات اور دانشور، جو ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے، وہ اس موضوع پر ایک دلچسپ نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کا لفظی مطلب ہی ’’ایسی کتاب ہے جو بہت زیادہ پڑھی جاتی ہو‘‘۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے صرف برکت کے لیے پڑھا، اسے ’’ذریعہ علم‘‘ (Avenue of Knowledge) بنا کر نہیں پڑھا۔ اگر ہم نے اسے علم کے طور پر پڑھا ہوتا تو آج پوری دنیا کی قیادت ہمارے پاس ہوتی۔ آپ سائنس کی مثال لے لیں۔ آج سے 50 سال پہلے تک سائنس کہتی تھی کہ سورج ایک جگہ کھڑا ہے، لیکن قرآن نے چودہ سو سال پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’سورج اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے‘‘۔ جب بگ بینگ (Big Bang) کا تصور آیا تو سائنس دانوں کو ماننا پڑا کہ قرآن سچ کہہ رہا تھا۔ اسی طرح قرآن کہتا ہے کہ ’’ہم زمین کو اس کے کناروں سے چھوٹا کرتے رہیں گے‘‘۔ ایک ماہر ِ بحری علوم سے جب اس پر بات ہوئی تو پتا چلا کہ گلیشیرز پگھلنے سے سطح سمندر بلند ہو رہی ہے اور زمین واقعی کناروں سے سمندر میں ڈوب کر چھوٹی ہو رہی ہے۔ مالدیپ ڈوب رہا ہے، سندھ کی زمینیں زیر ِ آب آ رہی ہیں۔ یہ وارننگ ہمیں چودہ سو سال پہلے دی گئی تھی۔

اسی طرح اناٹمی (Anatomy) کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی میں اناٹمی کے ایک بہت بڑے پروفیسر تھے۔ ان کے سامنے جب قرآن کی یہ آیت آئی کہ ’’انسان کو ماں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کیا گیا‘‘ تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا، یہ ’’ڈیوائن ڈیزائن‘‘ ہے کیونکہ اس دور میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ بچہ یوٹرس کی تین تہوں (Endoderm, Mesoderm, Ectoderm) کے اندر نشوونما پاتا ہے۔

ایک اور حیران کن پہلو ’’عدل اور قانون‘‘ کا ہے۔ مدینہ یونیورسٹی کے ایک سابقہ ڈین، جو اصل میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں اسلام لائے، انہوں نے خلفائے راشدین کے 897 عدالتی فیصلے جمع کیے۔ اللہ کے رسولؐ کے بھی سیکڑوں فیصلے موجود ہیں۔ اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ان تمام فیصلوں کو جدید انگریزی میں منتقل کیا جائے تاکہ ہمارے جج اور وکلا جب لندن یا نیویارک کی عدالتوں کی نظیریں پیش کرتے ہیں، تو وہ فخر سے یہ بھی بتا سکیں کہ ایسے ہی ایک کیس میں اللہ کے رسولؐ یا سیدنا علیؐ نے کیا فیصلہ دیا تھا۔ یہ پاکستان میں اسلامی قانون کو متعارف کروانے کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن صرف ثواب کی کتاب نہیں، یہ ایک زندہ جاوید معجزہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو ہر شعبے کے طالب علم کو موتی فراہم کرتی ہے۔ چاہے وہ فزکس کا ہو، کیمسٹری کا یا قانون کا، اسے بس ایک بار اپنے فیلڈ کے طالب علم کی حیثیت سے قرآن کو پڑھنا چاہیے۔ ہم کتنی بدقسمت قوم ہیں کہ ہمارے پاس علم کا وہ سمندر ہے جس کا ایک لفظ بھی وقت کی دھول سے دھندلا نہیں سکا، مگر ہم نے اسے الماریوں میں سجا کر رکھ دیا ہے۔ کاش ہم سمجھ سکتے کہ یہ کتاب صرف مرنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ جینے والوں کے لیے راستہ دکھانے آئی تھی۔ اور یہ اس کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔

محمد ادریس لاشاری سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سال پہلے انہوں نے کا مطلب کے لیے کا ایک سو سال کے ایک لیکن ا

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف