وہ ایک راز جو ہم نے الماری میں چھپا دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260223-03-8
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ لفظوں کی بھی اپنی ایک عمر ہوتی ہے؟ یہ پیدا ہوتے ہیں، جوان ہوتے ہیں، اپنا لباس بدلتے ہیں اور پھر بوڑھے ہو کر مر جاتے ہیں یا اپنا مفہوم مکمل طور پر تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہ دنیا کا ایک ایسا حیرت انگیز سچ ہے جس پر ہم عام طور پر غور نہیں کرتے۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی سے لسانیات کے ایک ماہر جے پامر (J.
اردو زبان کی صورتحال بھی مختلف نہیں۔ میر امن دہلوی نے جب ’’باغ و بہار‘‘ لکھی تو انہوں نے عورت کے لیے وہ لفظ استعمال کیا جسے آج ہم گالی سمجھتے ہیں۔ میر تقی میر، جنہیں ہم خدائے سخن کہتے ہیں، انہوں نے بارش میں اپنا گھر گرنے پر اپنی حالت بیان کرنے کے لیے جو لفظ استعمال کیا، آج وہ لفظ کسی شریف محفل میں نہیں بولا جا سکتا۔ اسی طرح ’’امیر‘‘ کا مطلب کبھی لیڈر ہوتا تھا، ’’غریب‘‘ کا مطلب مسافر یا اجنبی ہوتا تھا، مگر آج یہ الفاظ مالی حیثیت کی علامت بن چکے ہیں۔
دنیا کی ہر زبان میں لفظوں کے معنی بدل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل جب بھی چھپتی ہے، اس کا ایک ’’ریوائزڈ ورژن‘‘ آتا ہے۔ 1992 کے ایک ایڈیشن میں تین ہزار ایسے الفاظ کی فہرست دی گئی جن کے معنی بدل چکے تھے، لہٰذا بائبل کا متن بدلنا پڑا۔ زرتشتوں کی کتاب ہو یا ہندوؤں کے وید اور پران، ہر پچاس سال بعد ان کا ٹیکسٹ بدل جاتا ہے کیونکہ پرانے الفاظ اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ لیکن یہاں رُک کر ایک لمحے کے لیے سوچیے۔ اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایک ایسی کتاب بھی ہے جس کے 25 ہزار الفاظ نے چودہ سو سال سے اپنا مفہوم نہیں بدلا۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ہم ’’قرآن‘‘ کہتے ہیں۔ یہ اس کائنات کا سب سے بڑا لسانیاتی معجزہ ہے کہ اس کا ہر لفظ آج بھی اسی معنی میں استعمال ہو رہا ہے جس میں اللہ کے رسولؐ نے صحابہ کو سکھایا تھا۔
پاکستان کے ایک بہت بڑے ماہر ِ لسانیات اور دانشور، جو ایک بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے، وہ اس موضوع پر ایک دلچسپ نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کا لفظی مطلب ہی ’’ایسی کتاب ہے جو بہت زیادہ پڑھی جاتی ہو‘‘۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے صرف برکت کے لیے پڑھا، اسے ’’ذریعہ علم‘‘ (Avenue of Knowledge) بنا کر نہیں پڑھا۔ اگر ہم نے اسے علم کے طور پر پڑھا ہوتا تو آج پوری دنیا کی قیادت ہمارے پاس ہوتی۔ آپ سائنس کی مثال لے لیں۔ آج سے 50 سال پہلے تک سائنس کہتی تھی کہ سورج ایک جگہ کھڑا ہے، لیکن قرآن نے چودہ سو سال پہلے کہہ دیا تھا کہ ’’سورج اپنے ٹھکانے کی طرف رواں دواں ہے‘‘۔ جب بگ بینگ (Big Bang) کا تصور آیا تو سائنس دانوں کو ماننا پڑا کہ قرآن سچ کہہ رہا تھا۔ اسی طرح قرآن کہتا ہے کہ ’’ہم زمین کو اس کے کناروں سے چھوٹا کرتے رہیں گے‘‘۔ ایک ماہر ِ بحری علوم سے جب اس پر بات ہوئی تو پتا چلا کہ گلیشیرز پگھلنے سے سطح سمندر بلند ہو رہی ہے اور زمین واقعی کناروں سے سمندر میں ڈوب کر چھوٹی ہو رہی ہے۔ مالدیپ ڈوب رہا ہے، سندھ کی زمینیں زیر ِ آب آ رہی ہیں۔ یہ وارننگ ہمیں چودہ سو سال پہلے دی گئی تھی۔
اسی طرح اناٹمی (Anatomy) کا ایک واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔ برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی میں اناٹمی کے ایک بہت بڑے پروفیسر تھے۔ ان کے سامنے جب قرآن کی یہ آیت آئی کہ ’’انسان کو ماں کے پیٹ میں تین اندھیروں میں پیدا کیا گیا‘‘ تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا، یہ ’’ڈیوائن ڈیزائن‘‘ ہے کیونکہ اس دور میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ بچہ یوٹرس کی تین تہوں (Endoderm, Mesoderm, Ectoderm) کے اندر نشوونما پاتا ہے۔
ایک اور حیران کن پہلو ’’عدل اور قانون‘‘ کا ہے۔ مدینہ یونیورسٹی کے ایک سابقہ ڈین، جو اصل میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے تھے لیکن بعد میں اسلام لائے، انہوں نے خلفائے راشدین کے 897 عدالتی فیصلے جمع کیے۔ اللہ کے رسولؐ کے بھی سیکڑوں فیصلے موجود ہیں۔ اب کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ان تمام فیصلوں کو جدید انگریزی میں منتقل کیا جائے تاکہ ہمارے جج اور وکلا جب لندن یا نیویارک کی عدالتوں کی نظیریں پیش کرتے ہیں، تو وہ فخر سے یہ بھی بتا سکیں کہ ایسے ہی ایک کیس میں اللہ کے رسولؐ یا سیدنا علیؐ نے کیا فیصلہ دیا تھا۔ یہ پاکستان میں اسلامی قانون کو متعارف کروانے کی طرف ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن صرف ثواب کی کتاب نہیں، یہ ایک زندہ جاوید معجزہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو ہر شعبے کے طالب علم کو موتی فراہم کرتی ہے۔ چاہے وہ فزکس کا ہو، کیمسٹری کا یا قانون کا، اسے بس ایک بار اپنے فیلڈ کے طالب علم کی حیثیت سے قرآن کو پڑھنا چاہیے۔ ہم کتنی بدقسمت قوم ہیں کہ ہمارے پاس علم کا وہ سمندر ہے جس کا ایک لفظ بھی وقت کی دھول سے دھندلا نہیں سکا، مگر ہم نے اسے الماریوں میں سجا کر رکھ دیا ہے۔ کاش ہم سمجھ سکتے کہ یہ کتاب صرف مرنے والوں کے لیے نہیں، بلکہ جینے والوں کے لیے راستہ دکھانے آئی تھی۔ اور یہ اس کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سال پہلے انہوں نے کا مطلب کے لیے کا ایک سو سال کے ایک لیکن ا
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ