بنگلہ دیش میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کا آغاز، فوج اور سول بیوروکریسی میں اہم تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی نومنتخب حکومت نے، جس کی قیادت وزیرِاعظم طارق رحمان کر رہے ہیں، سول اور عسکری انتظامیہ کے اہم عہدوں پر مرحلہ وار ردوبدل کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تبدیلیاں بتدریج کی جائیں گی اور وسیع پیمانے پر اچانک تبادلوں سے گریز کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سول بیوروکریسی کے 2 اعلیٰ ترین عہدوں پر پہلے ہی تبدیلی کی جا چکی ہے، جبکہ اتوار کے روز بنگلہ دیش آرمی کے 8 سینئر عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے۔ اسی طرح پولیس کے اعلیٰ عہدوں اور جامعات کے وائس چانسلرز کے حوالے سے بھی آئندہ ہفتوں میں فیصلوں کا امکان ہے۔
ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق، تبدیلیاں مرحلہ وار کی جائیں گی اور تقرریوں و ترقیوں میں میرٹ، اہلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے گا۔
فوج میں اہم تقرریاں اور سفارتی ذمہ داریاںحکومت کے قیام کے 5 دن کے اندر آرمی ہیڈکوارٹرز نے 8 سینئر عہدوں پر ردوبدل کے احکامات جاری کیے۔
لیفٹیننٹ جنرل مینور رحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) مقرر کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن، جو آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) تھے، کو وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں سفارتی ذمہ داری بطور سفیر سونپی جا سکے۔
میجر جنرل میر مشفق الرحمٰن کو نیا PSO مقرر کیا گیا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا جا رہا ہے اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا جائے گا۔
موجودہ ڈی جی ایف آئی سربراہ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو بھی سفارتی تقرری کے لیے وزارتِ خارجہ بھیجا جا رہا ہے۔
دیگر تقرریوں میں میجر جنرل جے ایم امداد الاسلام کو ایسٹ بنگال رجیمنٹل سینٹر (EBRC) کا کمانڈنٹ اور میجر جنرل فردوس حسن کو 24 انفنٹری ڈویژن کا جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) مقرر کیا گیا ہے۔
اسی طرح نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی مشیر بریگیڈیئر جنرل ایم ڈی حفیظ الرحمٰن کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا گیا ہے اور انہیں 55 انفنٹری ڈویژن کا GOC مقرر کیا گیا ہے۔
عوامی انتظامیہ کے لیے ’180 روزہ منصوبہ‘سیکریٹریٹ حکام کے مطابق سول انتظامیہ میں اصلاحات حکومت کے متوقع 180 روزہ ایکشن پلان کے تحت کی جائیں گی، جسے آئندہ چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی۔
حکومت کی تشکیل سے قبل نئے کابینہ سیکریٹری کی تقرری کی گئی تھی، جبکہ اے بی ایم عبد الستار کو وزیرِاعظم کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔
ریاستی وزیر برائے عوامی انتظامیہ عبدالباری نے کہا ہے کہ تمام تقرریاں اور ترقیاں سختی سے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی اور سیاسی عوامل کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا۔
پولیس قیادت میں ممکنہ تبدیلیاںبنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت میں بھی ردوبدل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیرِداخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر جلد تبدیلیاں متوقع ہیں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) بہار العالم، جنہیں عبوری حکومت کے دوران کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا تھا، کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدہ خالی ہونے کی صورت میں کئی سینئر افسران زیرِ غور ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد فورس اب بھی استحکام کے عمل سے گزر رہی ہے، اس لیے حکومت وسیع پیمانے کی تبدیلیوں کے بجائے کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے۔
جامعات کے وائس چانسلرز غیر یقینی صورتحال سے دوچارانتظامی تبدیلیوں کا دائرہ سرکاری جامعات تک بھی پھیل سکتا ہے۔ 2024 میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد متعدد وائس چانسلرز مستعفی ہو گئے تھے اور عبوری دور میں نئی تقرریاں کی گئی تھیں۔
نئی حکومت کے قیام کے بعد بعض موجودہ وائس چانسلرز اپنی مدتِ ملازمت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
وزارتِ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اچانک برطرفیوں کے حق میں نہیں، جبکہ ماہرینِ تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کی قیادت سے متعلق فیصلے شفاف اور غیر سیاسی انداز میں کیے جائیں۔
نئی حکومت کی جانب سے مرحلہ وار اصلاحات کے اس عمل کو ملک میں انتظامی استحکام اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مقرر کیا گیا ہے وائس چانسلرز بنگلہ دیش حکومت کے کے مطابق جائے گا
پڑھیں:
کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
اسکرین گریب/ ایکسکراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔
سولجر بازار کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرکے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی ہے، ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹر سائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمہ کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور فرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مزید تفتیش جاری ہے۔