بنگلہ دیش کی نومنتخب حکومت نے، جس کی قیادت وزیرِاعظم طارق رحمان کر رہے ہیں، سول اور عسکری انتظامیہ کے اہم عہدوں پر مرحلہ وار ردوبدل کا آغاز کر دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تبدیلیاں بتدریج کی جائیں گی اور وسیع پیمانے پر اچانک تبادلوں سے گریز کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سول بیوروکریسی کے 2 اعلیٰ ترین عہدوں پر پہلے ہی تبدیلی کی جا چکی ہے، جبکہ اتوار کے روز بنگلہ دیش آرمی کے 8 سینئر عہدوں پر تقرریاں اور تبادلے کیے گئے۔ اسی طرح پولیس کے اعلیٰ عہدوں اور جامعات کے وائس چانسلرز کے حوالے سے بھی آئندہ ہفتوں میں فیصلوں کا امکان ہے۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق، تبدیلیاں مرحلہ وار کی جائیں گی اور تقرریوں و ترقیوں میں میرٹ، اہلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بنیاد بنایا جائے گا۔

فوج میں اہم تقرریاں اور سفارتی ذمہ داریاں

حکومت کے قیام کے 5 دن کے اندر آرمی ہیڈکوارٹرز نے 8 سینئر عہدوں پر ردوبدل کے احکامات جاری کیے۔

لیفٹیننٹ جنرل مینور رحمان کو چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) مقرر کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ایس ایم قمر الحسن، جو آرمڈ فورسز ڈویژن کے پرنسپل اسٹاف آفیسر (PSO) تھے، کو وزارتِ خارجہ کے سپرد کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں سفارتی ذمہ داری بطور سفیر سونپی جا سکے۔

میجر جنرل میر مشفق الرحمٰن کو نیا PSO مقرر کیا گیا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل قیصر رشید چوہدری کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا جا رہا ہے اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس (ڈی جی ایف آئی) کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا جائے گا۔

موجودہ ڈی جی ایف آئی سربراہ میجر جنرل محمد جہانگیر عالم کو بھی سفارتی تقرری کے لیے وزارتِ خارجہ بھیجا جا رہا ہے۔

دیگر تقرریوں میں میجر جنرل جے ایم امداد الاسلام کو ایسٹ بنگال رجیمنٹل سینٹر (EBRC) کا کمانڈنٹ اور میجر جنرل فردوس حسن کو 24 انفنٹری ڈویژن کا جنرل آفیسر کمانڈنگ (GOC) مقرر کیا گیا ہے۔

اسی طرح نئی دہلی میں بنگلہ دیش ہائی کمیشن میں تعینات دفاعی مشیر بریگیڈیئر جنرل ایم ڈی حفیظ الرحمٰن کو ترقی دے کر میجر جنرل بنایا گیا ہے اور انہیں 55 انفنٹری ڈویژن کا GOC مقرر کیا گیا ہے۔

عوامی انتظامیہ کے لیے ’180 روزہ منصوبہ‘

سیکریٹریٹ حکام کے مطابق سول انتظامیہ میں اصلاحات حکومت کے متوقع 180 روزہ ایکشن پلان کے تحت کی جائیں گی، جسے آئندہ چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی۔

حکومت کی تشکیل سے قبل نئے کابینہ سیکریٹری کی تقرری کی گئی تھی، جبکہ اے بی ایم عبد الستار کو وزیرِاعظم کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کیا گیا۔

ریاستی وزیر برائے عوامی انتظامیہ عبدالباری نے کہا ہے کہ تمام تقرریاں اور ترقیاں سختی سے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی اور سیاسی عوامل کو مدنظر نہیں رکھا جائے گا۔

پولیس قیادت میں ممکنہ تبدیلیاں

بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت میں بھی ردوبدل کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ وزیرِداخلہ صلاح الدین احمد نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کے اعلیٰ عہدوں پر جلد تبدیلیاں متوقع ہیں۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس (IGP) بہار العالم، جنہیں عبوری حکومت کے دوران کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا تھا، کے مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عہدہ خالی ہونے کی صورت میں کئی سینئر افسران زیرِ غور ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگست 2024 کی عوامی تحریک کے بعد فورس اب بھی استحکام کے عمل سے گزر رہی ہے، اس لیے حکومت وسیع پیمانے کی تبدیلیوں کے بجائے کیس ٹو کیس بنیاد پر فیصلے کر سکتی ہے۔

جامعات کے وائس چانسلرز غیر یقینی صورتحال سے دوچار

انتظامی تبدیلیوں کا دائرہ سرکاری جامعات تک بھی پھیل سکتا ہے۔ 2024 میں عوامی لیگ حکومت کے خاتمے کے بعد متعدد وائس چانسلرز مستعفی ہو گئے تھے اور عبوری دور میں نئی تقرریاں کی گئی تھیں۔

نئی حکومت کے قیام کے بعد بعض موجودہ وائس چانسلرز اپنی مدتِ ملازمت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اچانک برطرفیوں کے حق میں نہیں، جبکہ ماہرینِ تعلیم نے مطالبہ کیا ہے کہ جامعات کی قیادت سے متعلق فیصلے شفاف اور غیر سیاسی انداز میں کیے جائیں۔

نئی حکومت کی جانب سے مرحلہ وار اصلاحات کے اس عمل کو ملک میں انتظامی استحکام اور پیشہ ورانہ معیار کی بہتری کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مقرر کیا گیا ہے وائس چانسلرز بنگلہ دیش حکومت کے کے مطابق جائے گا

پڑھیں:

بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند

مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بابوسر ٹاپ روڈ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنر دیامر آفس 05812920055 دیامر پولیس کنٹرول روم 05812930037 پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے