امریکا سے مذاکرات میں پیشرفت، ایرانی صدر کا بڑا بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات سے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں تاہم ایران امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کے مطابق حالیہ بات چیت میں عملی تجاویز کا تبادلہ ہوا جس سے مثبت پیشرفت کے آثار ظاہر ہوئے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امریکی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران اور امریکا کشیدگی، نتائج کیا ہوں گے؟
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف سے جنیوا میں ملاقات متوقع ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا، تاہم سفارتی حل کے امکانات بھی موجود ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کے باوجود مذاکراتی عمل کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔