اسلام آباد (نیوز ڈیسک) نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی کے چھٹے ایڈیشن کا شاندار انعقاد کیا گیا۔ یہ بین الاقوامی ورکشاپ انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز ریسرچ اینڈ انیلسز کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔

ورکشاپ میں عالمی امن، خوشحالی اور تعاون کے فروغ کے لیے 50 ممالک سے تعلق رکھنے والے 100 سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔ دنیا بھر کے دانشوروں، سفارت کاروں اور پالیسی سازوں نے خطے کو درپیش مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی اور سیر حاصل گفتگو کی۔

بین الاقوامی ورکشاپ کا بنیادی مقصد جغرافیائی سیاسی چیلنجز، اقتصادی استحکام اور ٹیکنالوجی کے فروغ سے متعلق پالیسی سازی کو فروغ دینا تھا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف عالمی سطح پر مکالمے کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ پاکستان کا مثبت تشخص بھی اجاگر کرتی ہیں۔

ورکشاپ میں شریک بین الاقوامی مندوبین نے کہا کہ یہ این ڈی یو کا ایک احسن اقدام ہے جو دنیا بھر کے رہنماؤں اور ماہرین کو مشترکہ مسائل کے حل پر بات چیت کا مؤثر موقع فراہم کرتا ہے۔ شرکاء نے بہترین انتظامات اور شاندار مہمان نوازی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ورکشاپ فار لیڈرشپ اینڈ اسٹیبیلٹی جیسے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی روشن مثال ہیں اور یہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار کو نمایاں کرتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی