بڑھتے قرضے اور ٹیکسوں کا بوجھ، معیشت پر دباؤ میں اضافہ، ماہرین کا مالیاتی بحران کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہے جہاں بڑھتے ہوئے قرضوں اور ٹیکسوں کا بوجھ اقتصادی سرگرمیوں کو سست کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل مالی بے ضابطگیاں ملک کو بار بار عالمی مالیاتی اداروں، خصوصاً International Monetary Fund کے پاس جانے پر مجبور کرتی ہیں، جہاں وقتی ریلیف تو مل جاتا ہے تاہم بنیادی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ مالی خسارہ 6 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جو زیادہ تر سودی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ خالص سودی ادائیگیاں حکومتی ٹیکس آمدن سے بھی تجاوز کر گئی ہیں، جس پر ماہرین ممکنہ مالیاتی بحران کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس آمدن بڑھانے کے بنیادی ذرائع ٹیکس اور قرضہ ہیں، تاہم ٹیکس وصولیوں میں مسلسل ناکامی اور قرضوں میں غیر معمولی اضافے نے ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا حجم نئی بیرونی فنانسنگ سے بڑھ جانا بھی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔
گزشتہ دو بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، کئی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آ رہی ہے اور ہنر مند افراد بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو سرمایہ کاری اور محنت کی حوصلہ افزائی کرے، نہ کہ اسے دبائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق سادہ اور کم شرح والے ٹیکس نظام، وسیع ٹیکس بنیاد، غیر ضروری چھوٹ اور استثنیٰ کے خاتمے، آزاد تجارت کے فروغ، سرکاری اخراجات میں کمی، مستحکم مالیاتی پالیسی اور شفاف نجکاری جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن چکے ہیں اور پائیدار و تیز رفتار معاشی ترقی کے لیے مقامی سطح پر تیار کردہ اصلاحات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔