مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے سانحے کو 35 سال مکمل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں المناک سانحہ کے 35 سال مکمل ہوگئے۔
22 اور 23 فروری 1991 کی تاریک درمیانی شب مقبوضہ وادی کے علاقے کنن پوشپورہ میں بھارتی فوج نے سیکڑوں خواتین کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا، جس طرح خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیا وہ تاریخ کا ایسا زخم ہے جو آج تک نہیں بھر سکا۔
دلخراش سانحہ کے عینی شاہد عثمان علی ہاشم نے بتایا کہ 22 اور 23 فروری کی درمیانی شب ضلع کپواڑہ میں ہمیں قابض بھارتی فوج نے بندوق کی نوک پر گھروں سے نکال کر باہر جمع کیا، نشے میں دھت بھارت کی قابض فوج نے علاقے کا محاصرہ کیا اورخواتین پر ظلم و جبر کیا۔
عینی شاہد کے مطابق قابض بھارتی فوج نے مقبوضہ وادی کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا، 35 سال گزر جانے کے باجود ریاستی سرپرستی میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ظلم کا شکار خواتین کو انصاف نہیں مل سکا۔
اس گھناؤنے واقعہ کا مقصد مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا تھا تاکہ حقِ خودارادیت اور پاکستان سے وابستگی کی آواز کو دبایا جا سکے، کنن پوشپورہ جیسے سانحات ثبوت ہیں کہ ہزاروں کشمیری نوجوان اپنے نظریے، شناخت اور پاکستان سے الحاق کی خاطر ظلم و جبر کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔
آزادی کی خاطر کشمیری خواتین نے بھی بے مثال صبر اور قربانی کی داستانیں رقم کی ہیں مگر ان کے حوصلے آج بھی نہیں ٹوٹے، کنن پوشپورہ کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں آج بھی انصاف کی منتظر ہیں جن پر عالمی ضمیر خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج فوج نے
پڑھیں:
رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :