ایران کا بڑا دفاعی معاہدہ، روس سے جدید ’وربا‘ میزائل سسٹم خرید لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
تہران/ماسکو(نیوز ڈیسک) ایران نے اپنے فضائی دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے روس کے ساتھ جدید ’وربا‘ ائیر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کا معاہدہ کرلیا ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ تقریباً 60 کروڑ ڈالر مالیت کا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ گزشتہ برس دسمبر میں ماسکو میں طے پایا، جس کے تحت روس آئندہ تین برسوں میں ایران کو 500 ’وربا‘ لانچ یونٹس اور 2500 ’9M336‘ میزائل فراہم کرے گا۔
ان میزائلوں کی ترسیل 2027 سے 2029 کے درمیان تین مرحلوں میں مکمل کی جائے گی۔
اخبار کے مطابق ’وربا‘ روس کا جدید پورٹیبل فضائی دفاعی نظام ہے جو کندھے پر رکھ کر فائر کیا جاتا ہے۔ یہ انفراریڈ گائیڈڈ میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اس سسٹم کی محدود تعداد پہلے ہی ایران کو فراہم کی جا چکی ہو۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران یہ اقدام گزشتہ برس اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران اپنے متاثرہ فضائی دفاعی ڈھانچے کی بحالی کے لیے کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔