امریکا نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین میں قائم اہم فوجی اڈوں سے اپنے سیکڑوں فوجی اہلکار نکال لیے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے اہلکاروں کی منتقلی کی گئی ہے۔

العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات ہیں اور یہ امریکی فضائی کارروائیوں کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ اچانک کشیدگی کی صورت میں فوجیوں کو خطرے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے اور اسے فوری جنگ کی تیاری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود امریکا کے فوجی دستے عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں بدستور موجود ہیں۔

دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ یہ سوال کر رہے ہیں کہ اتنی فوجی اور بحری طاقت بڑھانے کے باوجود ایران نے ابھی تک “سرینڈر” کیوں نہیں کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر آئندہ 48 گھنٹوں میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی تجاویز پیش کر دی گئیں تو جنیوا میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البسیدی نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جنیوا میں ہوں گے۔

ادھر ایرانی کمانڈر علی جہاں شاہی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج دشمن کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی اور ایران کے تیل کے شعبے میں ممکنہ امریکی سرمایہ کاری بھی زیر غور ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کسی کو نہیں دے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی