WE News:
2026-07-23@23:28:50 GMT

ہماری صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کار

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دو بڑے واضح مرحلے ہیں۔ دہشتگردوں کو عسکری قوت سے شکست دینا، ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا، ان جتھوں کو جہنم واصل کرنا ایک عمل ہے اور دہشتگردانہ سوچ کو ختم کرنا ایک مختلف مرحلہ ہے۔

پہلے عمل کے لیے عسکری قوت درکار ہے۔ دوسری سیڑھی پر چڑھنے کے لیے نظریاتی، اخلاقی اور قومی سوچ میں یکجہتی درکار ہے۔ دونوں باتیں اس عفریت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ بات نہ صرف عسکری قوت سے بنتی ہے نہ ہی صرف نظریاتی اتحاد معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔

عسکری میدان میں ہم نے فتوحات کے بہت سے جھنڈے گاڑ دیے۔ اپنے سے بڑی قوت کو شکست دی۔ دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ سبز پرچم کو سربلند کیا۔ بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ جس طرح ’بنیان مرصوص‘ میں پوری قوم مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فوج کے جوانوں کے ساتھ کھڑی تھی، دہشتگردی کی جنگ میں ابھی تک وہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ اب بھی بہت سی نظریاتی تقسیم ہماری راہ میں حائل ہے۔ اب بھی بہت سی کنفیوژن کا ہمیں سامنا ہے۔ اب بھی درون خانہ  بہت سی مخفی اور منفی قوتوں سے جنگ درپیش ہے۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس کون سے میزائل ہیں؟ کون سے جنگی جہاز ہیں؟ کون سا ماڈرن اسلحہ ہے؟ ہمارا انٹیلی جنس نظام کس قدر مؤثر اور مربوط ہے؟ ہمارے جوان کس شدت سے اس ارضِ پاک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارے پاس افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں کتنی درست معلومات ہیں؟ ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ تاریک بھی ہے، تشویشناک بھی۔ لمحۂ فکریہ بھی ہے اور داستانِ الم بھی۔

نیشنل ایکشن پلان اگر آپ کی نظر سے گزرے تو آپ کو اپنی قومی کوتاہیوں اور کجیوں کا کچھ علم  ہوسکتا ہے۔ اس پلان کو 2014 میں اے پی ایس کے سانحے کے بعد تمام سیاسی قوتوں نے تشکیل دیا۔ سیاسی اجماع سے ایک ایک نکتے کو منظور کیا گیا۔ ایک ایک بات صراحت سے لکھی گئی۔ سب کو ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ کام سب میں بانٹ دیے گئے۔ اتفاقِ رائے سے اس منصوبے کا اجرا کیا گیا۔ ہر فریق کو مطمئن کر دیا گیا تاکہ اس قومی منصوبے کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ ختم ہو جائے اور دہشتگردی سے پاک  محفوظ مملکت کی منزل حاصل کی جائے۔

12 سال گزر گئے اے پی ایس کے واقعے کو۔ 12 سال گزر گئے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کو۔ مگر آج تک اس پلان کے صرف  ایک نکتے پر عمل کیا گیا۔ فوج نے دہشتگردوں کے خلاف جہاں جہاں موقع ملا کارروائی کی۔ جہاں دہشتگردوں کو دیکھا، جہنم واصل کیا۔ جہاں جہاں ممکن ہوا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے۔ جہاں موقع ملا دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے۔ پرامن پاکستان کے مقصد کے حصول کے لیے دلیر جوانوں کا خون بھی بہا، افسران نے شہادت کا رتبہ بھی پایا، مگر استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔

لیکن نیشنل ایکشن پلان کے باقی سارے نکات پر عمل تشنہ ہی رہا۔ نہ سیاست دانوں نے اپنا فرض نبھایا، نہ میڈیا نے ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا، نہ نصاب میں تبدیلیاں ہوئیں، نہ مدارس کی رجسٹریشن ہوئی، نہ نفرت انگیز تقاریر سے جان چھٹ سکی، نہ بھتہ خور تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی، نہ دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا، نہ دہشتگردی کے مقدموں کے فیصلوں کے لیے برق رفتار عدالتیں تشکیل پائیں،  نہ سیاست کے بہروپ میں چھپے مجرموں کی شناخت ہو سکی، نہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوا، نہ بلوچستان میں ترقی کی کوششوں کو مہمیز ملی۔

اس قومی غفلت کا نتیجہ بے انتہا خسارہ خیز ثابت  ہوا۔ سیاست کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے اسٹوڈیوز تک دہشتگردوں کے سہولت کار موجود رہے۔ جن کے خلاف کارروائی کرنا تھی وہی مختلف شعبوں میں فیصلہ کن رہے۔ جن کے خلاف آپریشن کرنا تھا وہی آپریشن رکوانے پر قادر رہے۔ جن کے نظریات کے پرچار کی ممانعت کرنی تھی وہی حکومتوں میں وارد ہو گئے۔ وہی عوام کے نام نہاد نمائندے کہلانے لگے۔ یہاں تک ہوا کہ دہشتگردوں کے حامی مسیحا کے روپ میں سامنے آنے لگے۔ نفرتیں پھیلانے والوں کو اقتدار مل گیا اور وہ   اپنے مذموم مقاصد  کی تکمیل کے لیے کبھی  صوبائیت اور کبھی لسانیت کا نعرہ لگانے لگے۔

اس قومی ناعاقبت اندیشی کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے ہاں سیاست سے لے کر میڈیا تک ایسی سوچ والے افراد در آئے جو  دہشتگردوں کی سوچ، طرزِ عمل اور طرزِ زندگی سے متاثر ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ یہاں بھی لڑکیوں کے ہر اسکول کو بم سے اڑا دیا جائے، ہر کھیل کھیلنے والی لڑکی کو پابندِ سلاسل کیا جائے، عورتوں کو صرف کوڑے مارے جائیں۔ خواتین سے صرف  بھیک منگوائی جائے۔ مدرسوں میں صرف دہشتگردوں کو تربیت دی جائے، کم عمر بچیوں سے شادیوں پر جشن منائے جائیں۔ دلیل کا قتل کیا جائے، دانش کا تمسخر اڑایا جائے، علم سے فرار حاصل کیا جائے، سائنس کے خلاف فتوے لگائے جائیں۔ ریاست کے خلاف نعرے لگائے جائیں۔ اداروں میں تقسیم اور تفریق کی کوشش کی جائے۔

لیکن ان دہشتگردوں کا واحد ہتھیار جہالت نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ان کی نفرت کو فروغ دینے میں کم نہیں۔ اب بھی میڈیا میں وہ صحافی ، اینکر اور تجزیہ کار  بیٹھے ہیں جو دل ہی دل میں ان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی تائید کرتے ہیں۔ اب بھی سیاست دانوں کی صفوں میں وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے خلاف تو بات کرتے ہیں مگر افغانستان کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی ایسے افراد ہیں جو طلبہ کے ذہنوں کو اس دہشتگردانہ سوچ سے آلودہ کرتے ہیں۔ اب بھی سوشل میڈیا کے بہت سے اکاؤنٹس موجود ہیں جو محب وطنوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے نفرت انگیز کارناموں پر فخر کرتے ہیں۔

 یہ اکاؤنٹس افغانستان سے چلتے ہیں۔ ان کی فنڈنگ انڈیا سے ہوتی ہے، لیکن فالو کرنے والے ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ہر شعبے میں یہ سوچ موجود ہے۔ اس کا قلع قمع صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں ہوگا۔ اتحاد، یکجہتی اور قومی بیانیہ ہی ہمیں دہشتگردی کے عفریت سے نکال سکتا ہے۔ اگر دہشتگردوں کو نیست و نابود کرنے کی ذمہ داری ہم نے صرف عسکری اداروں تک محدود رکھی تو دہشتگرد تو جہنم واصل ہو جائیں گے مگر یہ ملک جنت نہیں بن سکے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

عمار مسعود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دہشتگردوں کو دہشتگردوں کے کرتے ہیں کیا گیا کے خلاف ہیں جو اب بھی کے لیے

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار