WE News:
2026-06-03@03:48:34 GMT

ہماری صفوں میں موجود دہشتگردوں کے سہولت کار

اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT

دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دو بڑے واضح مرحلے ہیں۔ دہشتگردوں کو عسکری قوت سے شکست دینا، ان کے ٹھکانوں پر حملہ کرنا، ان جتھوں کو جہنم واصل کرنا ایک عمل ہے اور دہشتگردانہ سوچ کو ختم کرنا ایک مختلف مرحلہ ہے۔

پہلے عمل کے لیے عسکری قوت درکار ہے۔ دوسری سیڑھی پر چڑھنے کے لیے نظریاتی، اخلاقی اور قومی سوچ میں یکجہتی درکار ہے۔ دونوں باتیں اس عفریت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ بات نہ صرف عسکری قوت سے بنتی ہے نہ ہی صرف نظریاتی اتحاد معاملے کو سلجھا سکتا ہے۔

عسکری میدان میں ہم نے فتوحات کے بہت سے جھنڈے گاڑ دیے۔ اپنے سے بڑی قوت کو شکست دی۔ دنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا۔ سبز پرچم کو سربلند کیا۔ بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ جس طرح ’بنیان مرصوص‘ میں پوری قوم مکمل ہم آہنگی کے ساتھ فوج کے جوانوں کے ساتھ کھڑی تھی، دہشتگردی کی جنگ میں ابھی تک وہ کیفیت نظر نہیں آتی۔ اب بھی بہت سی نظریاتی تقسیم ہماری راہ میں حائل ہے۔ اب بھی بہت سی کنفیوژن کا ہمیں سامنا ہے۔ اب بھی درون خانہ  بہت سی مخفی اور منفی قوتوں سے جنگ درپیش ہے۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ ہمارے پاس کون سے میزائل ہیں؟ کون سے جنگی جہاز ہیں؟ کون سا ماڈرن اسلحہ ہے؟ ہمارا انٹیلی جنس نظام کس قدر مؤثر اور مربوط ہے؟ ہمارے جوان کس شدت سے اس ارضِ پاک کا دفاع کرنا چاہتے ہیں؟ ہمارے پاس افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں کتنی درست معلومات ہیں؟ ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟ یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ تاریک بھی ہے، تشویشناک بھی۔ لمحۂ فکریہ بھی ہے اور داستانِ الم بھی۔

نیشنل ایکشن پلان اگر آپ کی نظر سے گزرے تو آپ کو اپنی قومی کوتاہیوں اور کجیوں کا کچھ علم  ہوسکتا ہے۔ اس پلان کو 2014 میں اے پی ایس کے سانحے کے بعد تمام سیاسی قوتوں نے تشکیل دیا۔ سیاسی اجماع سے ایک ایک نکتے کو منظور کیا گیا۔ ایک ایک بات صراحت سے لکھی گئی۔ سب کو ذمہ داریاں دے دی گئیں۔ کام سب میں بانٹ دیے گئے۔ اتفاقِ رائے سے اس منصوبے کا اجرا کیا گیا۔ ہر فریق کو مطمئن کر دیا گیا تاکہ اس قومی منصوبے کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ ختم ہو جائے اور دہشتگردی سے پاک  محفوظ مملکت کی منزل حاصل کی جائے۔

12 سال گزر گئے اے پی ایس کے واقعے کو۔ 12 سال گزر گئے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل کو۔ مگر آج تک اس پلان کے صرف  ایک نکتے پر عمل کیا گیا۔ فوج نے دہشتگردوں کے خلاف جہاں جہاں موقع ملا کارروائی کی۔ جہاں دہشتگردوں کو دیکھا، جہنم واصل کیا۔ جہاں جہاں ممکن ہوا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے۔ جہاں موقع ملا دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے۔ پرامن پاکستان کے مقصد کے حصول کے لیے دلیر جوانوں کا خون بھی بہا، افسران نے شہادت کا رتبہ بھی پایا، مگر استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔

لیکن نیشنل ایکشن پلان کے باقی سارے نکات پر عمل تشنہ ہی رہا۔ نہ سیاست دانوں نے اپنا فرض نبھایا، نہ میڈیا نے ایک قومی بیانیہ تشکیل دیا، نہ نصاب میں تبدیلیاں ہوئیں، نہ مدارس کی رجسٹریشن ہوئی، نہ نفرت انگیز تقاریر سے جان چھٹ سکی، نہ بھتہ خور تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی، نہ دہشتگردوں کی مالی معاونت کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا، نہ دہشتگردی کے مقدموں کے فیصلوں کے لیے برق رفتار عدالتیں تشکیل پائیں،  نہ سیاست کے بہروپ میں چھپے مجرموں کی شناخت ہو سکی، نہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوا، نہ بلوچستان میں ترقی کی کوششوں کو مہمیز ملی۔

اس قومی غفلت کا نتیجہ بے انتہا خسارہ خیز ثابت  ہوا۔ سیاست کے ایوانوں سے لے کر میڈیا کے اسٹوڈیوز تک دہشتگردوں کے سہولت کار موجود رہے۔ جن کے خلاف کارروائی کرنا تھی وہی مختلف شعبوں میں فیصلہ کن رہے۔ جن کے خلاف آپریشن کرنا تھا وہی آپریشن رکوانے پر قادر رہے۔ جن کے نظریات کے پرچار کی ممانعت کرنی تھی وہی حکومتوں میں وارد ہو گئے۔ وہی عوام کے نام نہاد نمائندے کہلانے لگے۔ یہاں تک ہوا کہ دہشتگردوں کے حامی مسیحا کے روپ میں سامنے آنے لگے۔ نفرتیں پھیلانے والوں کو اقتدار مل گیا اور وہ   اپنے مذموم مقاصد  کی تکمیل کے لیے کبھی  صوبائیت اور کبھی لسانیت کا نعرہ لگانے لگے۔

اس قومی ناعاقبت اندیشی کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے ہاں سیاست سے لے کر میڈیا تک ایسی سوچ والے افراد در آئے جو  دہشتگردوں کی سوچ، طرزِ عمل اور طرزِ زندگی سے متاثر ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ یہاں بھی لڑکیوں کے ہر اسکول کو بم سے اڑا دیا جائے، ہر کھیل کھیلنے والی لڑکی کو پابندِ سلاسل کیا جائے، عورتوں کو صرف کوڑے مارے جائیں۔ خواتین سے صرف  بھیک منگوائی جائے۔ مدرسوں میں صرف دہشتگردوں کو تربیت دی جائے، کم عمر بچیوں سے شادیوں پر جشن منائے جائیں۔ دلیل کا قتل کیا جائے، دانش کا تمسخر اڑایا جائے، علم سے فرار حاصل کیا جائے، سائنس کے خلاف فتوے لگائے جائیں۔ ریاست کے خلاف نعرے لگائے جائیں۔ اداروں میں تقسیم اور تفریق کی کوشش کی جائے۔

لیکن ان دہشتگردوں کا واحد ہتھیار جہالت نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی ان کی نفرت کو فروغ دینے میں کم نہیں۔ اب بھی میڈیا میں وہ صحافی ، اینکر اور تجزیہ کار  بیٹھے ہیں جو دل ہی دل میں ان کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی تائید کرتے ہیں۔ اب بھی سیاست دانوں کی صفوں میں وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے خلاف تو بات کرتے ہیں مگر افغانستان کو ’وطن‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں بھی ایسے افراد ہیں جو طلبہ کے ذہنوں کو اس دہشتگردانہ سوچ سے آلودہ کرتے ہیں۔ اب بھی سوشل میڈیا کے بہت سے اکاؤنٹس موجود ہیں جو محب وطنوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں، دہشتگردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور ان کے نفرت انگیز کارناموں پر فخر کرتے ہیں۔

 یہ اکاؤنٹس افغانستان سے چلتے ہیں۔ ان کی فنڈنگ انڈیا سے ہوتی ہے، لیکن فالو کرنے والے ہمارے آس پاس موجود ہیں۔ ہر شعبے میں یہ سوچ موجود ہے۔ اس کا قلع قمع صرف عسکری کارروائیوں سے نہیں ہوگا۔ اتحاد، یکجہتی اور قومی بیانیہ ہی ہمیں دہشتگردی کے عفریت سے نکال سکتا ہے۔ اگر دہشتگردوں کو نیست و نابود کرنے کی ذمہ داری ہم نے صرف عسکری اداروں تک محدود رکھی تو دہشتگرد تو جہنم واصل ہو جائیں گے مگر یہ ملک جنت نہیں بن سکے گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

عمار مسعود.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دہشتگردوں کو دہشتگردوں کے کرتے ہیں کیا گیا کے خلاف ہیں جو اب بھی کے لیے

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا