پنجاب کی ٹیکس آمدنی پہلی ششماہی میں 227 ارب 85 کروڑ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبہ پنجاب میں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ٹیکس آمدنی 227 ارب 85 کروڑ روپے تک پہنچ گئی جبکہ صوبے کی مجموعی سالانہ ٹیکس آمدنی کا ہدف 527 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہدف حاصل نہ کرنے والے محکموں کو کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے اور واضح کیا ہے کہ بجٹ اہداف ہر صورت مکمل کیے جائیں۔
اعداد و شمار کے مطابق توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کی کارکردگی انتہائی کم رہی، چھ ماہ کے دوران ان دونوں شعبوں سے صرف 78 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا جا سکا جبکہ سالانہ ہدف 9 ارب 70 کروڑ روپے مقرر ہے۔
آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کے نئے دور کا آغاز ہو چکا;ڈاکٹر کامران فرید
بورڈ آف ریونیو کا سالانہ ہدف 105 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے تاہم ادارہ پہلی ششماہی میں صرف 35 ارب 69 کروڑ روپے اکٹھے کر سکا۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی نے سب سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ ماہ میں 147 ارب روپے جمع کیے، اسی طرح ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپاٹمنٹ نے 70 ارب روپے کے ہدف میں سے 43 ارب 41 کروڑ روپے وصول کر لیے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ مدت میں ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ مقررہ بجٹ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کروڑ روپے
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔