سید منظور احمد شاہ کا رمضان المبارک کی آمد پر خصوصی پیغام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
سید منظور احمد شاہ کا رمضان المبارک کی آمد پر خصوصی پیغام WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
مظفرآباد : سینئر حریت رہنما سید منظور احمد شاہ نے کہا ہے کہ ماہِ رمضان رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا عظیم مہینہ ہے جو ہمیں صبر، تقویٰ، ایثار اور باہمی ہمدردی کا درس دیتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سید منظور شاہ نے کہا کہ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے تزکیۂ نفس اور روحانی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مقدس مہینے میں ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ عبادات، تلاوتِ قرآن پاک، ذکر و اذکار اور محتاج و مستحق افراد کی مدد کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ روزہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی عملی تربیت ہے۔
انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کے اس دور میں نادار اور ضرورت مند خاندانوں کی بھرپور مدد کریں تاکہ کوئی بھی شخص سحری و افطاری سے محروم نہ رہے۔ سید منظور شاہ نے کہا کہ ہمیں رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے حقیقی معنوں میں استفادہ کرتے ہوئے اخوت، بھائی چارے اور اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے پوری امتِ مسلمہ بالخصوص کشمیری عوام کو رمضان المبارک کی آمد پر مبارکباد پیش کی,انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی ہے کہ تمام سماجی سیاسی اور غلامی کی بیماریوں کا علاج اور مقابلہ اپنے ایمان سے کیجیے ۔اپنے نفس کو باطل قوتوں اور شیطانی قابض قوتوں سے مقابلہ کرنے کے لیے رمضان ,صلٰاة اور صبر سے اللہ کی مدد طلب کریں تاکہ مسلمانوں اور اسلام کو کفار و مشرکیں کے قبضے سے ازاد ی دلای جاسکے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس بابرکت مہینے کے صدقے کشمیری عوام کو زادی امن اور پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی نصیب فرمائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا میں تاریخ کا ممکنہ بدترین طوفان، دو کروڑ سے زائد لوگوں کے متاثرہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر تعینات من گھڑت مقدمے کے ذریعے افضل گرو کو پھانسی دی گئی، سید منظور شاہ پاکستانی ہر حال میں کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر سینئر حریت رہنما سید منظور احمد شاہ کا 5 فروری کو یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منانے کا اعلان.آزاد کشمیر: وادی نیلم میں برفباری، وادی لیپا کا رابطہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا سے منقطع آزاد کشمیر میں سفید گالوں کی برسات، مظفر آباد میں برفباری کا ریکارڈ ٹوٹ گیا
Copyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سید منظور احمد شاہ رمضان المبارک
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔