وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے جسٹس عامر فاروق نے اختیارات پر فیصلہ سیل ٹیکس کے مقدمے میں تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم سے قبل قانون اور آئین کی تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس تھا، تاہم نئی آئینی ترمیم کے تحت یہ اختیار آئینی عدالت کو منتقل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت اب قانون سازی کی آئینی حیثیت کا جائزہ بھی لے سکتی ہے اور کسی بھی تشریحی مقدمے کا ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے واضح کیا کہ 27 ویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے تشریح اور قانون سازی کے جائزے کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے گیا ہے

پڑھیں:

 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع

اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

متعلقہ مضامین

  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن