سابق سی ای او خیبر پختونخواہ اکنامک زون کی برطرفی کیخلاف دائر اپیل وفاقی آئینی عدالت میں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے سابق سی ای او خیبر پختونخواہ اکنامک زون کمپنی جاوید اقبال کی برطرفی کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ 2 رکنی بینچ نے جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران سابق سی ای او کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کوئی بادشاہت نہیں کہ حکومت جب چاہے کسی کو برطرف کر دے، مؤقف میں کہا گیا کہ جاوید اقبال کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ سی ای او کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کا تعمیراتی خدمات پر ٹیکس قانونی قراردیدیا
اس پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ آپ کی دوبارہ تقرری بھی بادشاہت کے انداز میں ہوئی، جبکہ دوبارہ تقرری کے لیے مسابقتی طریقہ کار اپنایا جانا چاہیے تھا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ واقعی اتنے اہل ہیں تو حکومت دوبارہ آپ کی تقرری کر دے گی۔
عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپیل مسترد کرتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکنامک زون عدالت وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکنامک زون عدالت وفاقی آئینی عدالت وفاقی آئینی عدالت سی ای او
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔