امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان، ہزاروں پروازیں منسوخ، ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ متعدد ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق برفانی طوفان کے باعث تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ افراد کے لیے انتباہ جاری کیا گیا ہے اور حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق چھ ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے جن میں نیویارک، نیوجرسی، ڈیلاویئر، رہوڈ آئی لینڈ، کنیٹی کٹ اور میساچوسٹس شامل ہیں۔
برفانی طوفان کے باعث ملک بھر میں 11 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں جبکہ کئی پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے نیویارک کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کی عارضی معطلی سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
نیویارک سٹی میں رات 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ میئر ظہران ممدانی نے شہر میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نیویارک سٹی میں 18 سے 24 انچ جبکہ بعض مقامات پر 28 انچ تک برفباری متوقع ہے۔ اس کے علاوہ شمال مشرقی امریکا میں پیر کی صبح تک شدید برفباری اور تیز ہواؤں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
حکام نے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور تازہ ترین اطلاعات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے محفوظ رہا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: برفانی طوفان گئی ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔