’سپر 8 میچ تو ہم ہی جیتیں گے‘،اشتہار شرمندگی میں بدل گیا، بھارت کی شکست کے بعد ویڈیو ڈیلیٹ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر 8 مرحلے میں جنوبی افریقہ نے بھارت کو 76 رنز سے شکست دے کر نہ صرف میچ بلکہ بھارتی ٹیم کے غرور کو بھی چوٹ پہنچائی۔ اور بھارت کے لیے شرمندگی صرف یہی نہیں رہی بلکہ میچ سے پہلے ٹیم کی فتح پر بنایا گیا ایک طنزیہ پرومو جو اپنے اعتماد کی علامت تھا ہار کے بعد ڈیلیٹ کرنا پڑا۔
لیکن سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو پہلے ہی وائرل ہو چکی تھی جس پر صارفین نے نہ صرف مذاق اڑایا بلکہ بھارتی ٹیم پر تنقید بھی کی اور کہا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے اور یہ ویڈیو اس کا بہترین ثبوت بن گئی ہے۔
South Africa defeated India in a one-sided match, and Star Sports has deleted this offensive ad it made for this particular encounter.
Perhaps this episode will teach our ad makers that arrogance masquerading as marketing is neither clever nor graceful.
pic.twitter.com/uK9W96p95Y
— THE SKIN DOCTOR (@theskindoctor13) February 22, 2026
میچ سے قبل سٹار سپورٹس کی جانب سے جاری کیے گئے پرومو میں انڈین اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے ڈمی کھلاڑیوں کو ہوٹل میں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں انڈین کھلاڑی ایک کپ کیک کی جانب بڑھتا ہے جسے جنوبی افریقہ کا کھلاڑی اٹھا لیتا ہے اور انڈین کھلاڑی سے معذرت کرتا ہے۔
اس پر انڈین کھلاڑی جواب میں کہتا ہے کہ ’سوری ٹو یو‘، جس کے بعد جنوبی افریقہ کے کھلاڑی نے سوال کیا کہ ایسا کیوں؟ انڈین کھلاڑی یاد دلاتا ہے کہ سنہ 2024 میں فائنل میں بھارت نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ’اب تو زمبابوے اور ویسٹ انڈیز سے بھی ڈر لگ رہا ہے‘، جنوبی افریقہ کے ہاتھوں شکست پر بھارتی صحافی ٹیم پر پھٹ پڑے
ویڈیو میں انڈین کھلاڑی کہتا ہے کہ کپ تو ہم نے ہی جیتا تھا اور آنے والے سپر 8 میچ میں بھی ہم ہی جیتیں گے جس پر جنوبی افریقہ کے کھلاڑی کے گلے میں کیک پھنس جاتا ہے اور انڈین کھلاڑی ’چوکنگ‘ کہتا ہے۔
میچ کے بعد سٹار سپورٹس نے یہ اشتہار فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیا تاہم ویڈیو سوشل میڈیا پر پہلے ہی وائرل ہو چکی تھی جس پر صارفین نے نہ صرف تنقید کی بلکہ مذاق بھی اڑایا۔
سوشل میڈیا صارف مرزا اقبال بیگ نے لکھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سے قبل بھارت نے یہ کمرشل بنایا تھا لیکن کہتے ہیں نا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے آج بھارتی ٹیم کو 76 رنز کے بڑے مارجن سے شکست ہو گئی۔
جنوبی افریقہ کے خلاف میچ سے قبل بھارت نے یہ کمرشل بنایا تھا لیکن کہتے ہیں نا کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے آج بھارتی ٹیم کو 76 رنز کے بڑے مارجن سے شکست ہو گئی۔#T20WorldCup#INDvSA pic.twitter.com/BlIAw3vdB0
— Mirza Iqbal Baig (@mirzaiqbal80) February 22, 2026
رضوان غلزئی نے بھارتیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس اشتہار کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں؟
Indias what will you do with this ad?#INDvSA pic.twitter.com/tRV5k95zMl
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 22, 2026
ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن سٹار سپورٹس اس شرمندگی کے مستحق ہیں۔ اگر ان میں ذرا سی بھی ایمانداری ہوتی تو وہ جنوبی افریقہ سے معافی مانگتے۔ کھیل ہمیشہ ایسے لوگوں کو سبق سکھا دیتا ہے جو خود کو کھیل سے بڑا سمجھتے ہیں۔
ofcourse they’ve decided to delete the tweet but @StarSportsIndia deserves this humiliation. if they had an iota of integrity, they would issue an apology to South Africa. unbridled arrogance. the game always finds a way to humble those who think they are bigger than the game ???????? pic.twitter.com/3QCM3DFw1u
— CaniZ (@caniyaar) February 22, 2026
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ میں جنوبی افریقہ نے دفاعی چیمپئن بھارت کو 76 رنز سے شکست دے کر گزشتہ ورلڈ کپ کے فائنل کا بدلہ لے لیا۔
اب بھارت اپنا اگلا میچ 26 فروری کو زمبابوے سے کھیلے گا، جبکہ جنوبی افریقہ اسی روز ویسٹ انڈیز کے مدمقابل ہوگی۔ یہ فتح جنوبی افریقہ کے لیے نہ صرف اہم ہے بلکہ گزشتہ ورلڈ کپ کے فائنل کا حساب بھی چکتا کرتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا پرومو انڈیا شکست انڈین اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا پرومو انڈیا شکست انڈین اشتہار جنوبی افریقہ کے انڈین کھلاڑی بھارتی ٹیم کو 76 رنز ورلڈ کپ کے بعد میچ سے
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔