دہرے قتل کے 76 سالہ مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے دہرے قتل کے 76 سالہ مجرم محمد ممتاز کی سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا۔
سپریم کورٹ نے 76 سالہ مجرم کے ضعیف العمر ہونے کی بنیاد پر سزا میں رعایت دی۔
عدالت نے کہا کہ قتل کا واقعہ کسی پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ نہیں تھا، خونی تصادم کا آغاز گلی سے مویشی گزارنے کے معمولی تنازع پر ہوا تھا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ مجرم کی اہلیہ اور مقتولہ کے درمیان ہاتھا پائی جھگڑے کی بنیاد بنی، استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ملزم نے بھینس چوری کے مقدمے کی رنجش میں قتل کا ارتکاب کیا۔
یہ بھی پڑھیے سپریم کورٹ، عدالتی فیصلے پر عمل کرانے کیلئے شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار سزائے موت کیخلاف اپیلیں‘دو ملزمان کی سزا عمر قید میں تبدیل ‘چار بریعدالت نے کہا کہ استغاثہ بھینس چوری کی مبینہ دشمنی کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکا، خالی خول برآمد نہ ہونے کی وجہ سے آلۂ قتل کی برآمدگی غیر اہم ہے۔
واضح رہے کہ واقعہ مارچ 2015ء میں سرگودھا کے علاقے ڈیرہ سودھی مری میں پیش آیا تھا، مجرم کی فائرنگ سے 2 خواتین جاں بحق اور 1 شخص زخمی ہوا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے 2019ء میں مجرم کو 2 بار سزائے موت کا حکم سنایا تھا جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2024ء میں سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ سزائے موت کورٹ نے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔