افغانستان میں چینی سرمایہ کاری خطرے میں، رپورٹ میں تشویشناک انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
کابل: افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال اور غیر ملکی کارکنوں کے تحفظ سے متعلق خدشات ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔
امریکا کے تھنک ٹینک اسٹمسن سینٹر سے وابستہ محقق سارہ گوڈاک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت چینی کارکنوں کو مقامی شدت پسند گروہوں کے حملوں سے مکمل تحفظ فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان اور تاجکستان کی سرحد کے قریب سونے کی کانوں پر کام کرنے والے چینی مزدوروں کو سیکیورٹی خطرات لاحق رہے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2024 سے 2026 کے آغاز تک سرحدی علاقے میں کم از کم سات حملے ہوئے جن میں نو چینی شہری ہلاک اور دس زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیںطالبان، بی ایل اے دہشتگرد تنظیمیں ہیں، سختی سے نمٹنا چاہیے، اپوزیشن اتحاد
پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں جاری چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی سیکیورٹی کی ذمہ داری طالبان حکام کے پاس ہے، تاہم اس کے باوجود غیر ملکی کارکن شدت پسندوں کے نشانے پر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پائیدار استحکام کے لیے ضروری ہے کہ حکومت داخلی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنائے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کارکنوں کو محفوظ ماحول فراہم کرے، تاکہ اقتصادی منصوبے متاثر نہ ہوں۔
افغان حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم طالبان حکومت اس سے قبل ملک میں سیکیورٹی کی بہتری کے دعوے کرتی رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان میں
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔