لاہور ہائیکورٹ: ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں کے جائیدادوں پر قبضے دلوانے کے تمام فیصلے کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ قانون کے تحت کارروائیوں کے خلاف دائر درجنوں درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
عدالت نے ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں (ڈی آر سی) کی جانب سے پراپرٹیوں پر قبضے دلوانے کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے اور زیر سماعت تمام درخواستیں نئے ترمیمی آرڈیننس کے تحت قائم ٹریبونل کو بھجوا دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور ہائیکورٹ میں اینٹی ریپ ایکٹ کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مقرر
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے مطابق ترمیمی آرڈیننس میں بہت سی چیزوں کو تبدیل کیا گیا ہے، ڈی آر سی کمیٹیوں کے پاس جوڈیشل اختیارات نہیں ہوں گے اور اگر فریقین کے درمیان کمپرومائز ہوا تو کمیٹی وہ معاملہ کمپرومائز ٹریبونل کے روبرو پیش کرے گی۔ ٹریبونل میں ریٹائرڈ ججز کی بجائے حاضر سروس ایڈیشنل سیشن ججز تعینات کیے جائیں گے اور اگر کسی شکایت کو جھوٹا ثابت کیا گیا تو ٹریبونل کے پاس شکایت کنندہ کو 5 سال تک سزا دینے کا اختیار ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ ٹریبونل کو درخواست پر 30 روز میں فیصلہ کرنا ہوگا اور اگر کوئی کیس عدالت میں زیر سماعت ہو تو متعلقہ عدالت ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اسے ٹریبونل میں ٹرانسفر کرنے کی اجازت دے گی، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیر التوا کیسز ناقابل ٹرانسفر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان بار کونسل نے پنجاب پراپرٹی تحفظ قانون کو مسترد کردیا، عدلیہ مخالف پروپیگنڈے پر تحفظات کا اظہار
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے وکیل درخواست گزار اظہر صدیق سے مکالمے میں کہا کہ اگر قانون میں 80 فیصد تبدیلیاں آئیں تو نئے قانون کے خلاف نئی درخواستیں دائر کی جا سکتی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ جن درخواستوں میں پہلے آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا، وہ ترمیمی آرڈیننس کے بعد غیر موثر ہو گئی ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ٹریبونل تمام درخواستوں کو نئے قانون کے مطابق سن کر فیصلہ کرے، جبکہ پہلے ہائیکورٹ کے ذریعے پراپرٹیوں کے قبضے دلوائے گئے فیصلے برقرار رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پراپرٹی پنجاب ہائیکورٹ جائیداد عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پراپرٹی پنجاب ہائیکورٹ عدالت لاہور ہائیکورٹ
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔