کیا امریکا ہندوستان طالبان تعلقات کو پاکستان کے معدنی وسائل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستان کے معدنی وسائل عالمی اسٹریٹجک مقابلے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور امریکا چین پر انحصار کم کرنے کے لیے متنوع اور سستی سپلائی چینز تلاش کر رہا ہے۔ بلوچستان میں قدرتی وسائل کی کھدائی میں دلچسپی کے باوجود، خطے میں سلامتی اور سیاسی عدم استحکام امریکی مفادات کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔
عالمی سطح پر تکنیکی قیادت، صنعتی طاقت اور جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ کے لیے اہم معدنیات کا کنٹرول تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ چین اس وقت عالمی معدنی سپلائی چینز پر حاوی ہے، لیکن امریکا اب متبادل اور کم لاگت والے ذرائع تلاش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
پاکستان میں کوئلہ کے دنیا کے دوسرے بڑے ذخائر اور تانبے کے ساتویں بڑے ذخائر ہیں جن کی مجموعی مالیت قریباً 6.
امریکا کی سرمایہ کاری کے حوالے سے US EXIM Bank نے پاکستان کے معدنی شعبے میں 1.25 ارب ڈالر لگائے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھی سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
چین پاکستان کے معدنی شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، مگر اس کا انحصار پاکستان کے معدنی وسائل پر محدود ہے، جبکہ امریکا کے لیے یہ وسائل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم، بلوچستان اور پاکستان کے مغربی سرحدی علاقے غیر مستحکم ہیں۔ بھارت کی جانب سے مقامی علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت اور طالبان کے عناصر کا افغان سرزمین پر موجود ہونا خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ دونوں عوامل امریکی منصوبوں کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں، کیونکہ یہ معدنی وسائل کی استخراج، ترقیاتی منصوبوں اور سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں۔
خاص طور پر گوادر پورٹ، جو چین کے “One Belt, One Road” منصوبے کا اہم حصہ ہے، بحر عرب کے راستے تجارتی اور توانائی کی رسائی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بھارت کی کوشش ہے کہ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کرے، جس کے لیے وہ خفیہ اور کھلی کارروائیوں کے ذریعے علاقے کو غیر مستحکم کرتا ہے۔
مزید برآں، افغانستان میں طالبان اور دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پاکستان کی سیکیورٹی پر دباؤ ڈالتی ہے اور خطے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو محدود کرتی ہے۔ وسطی ایشیا کے ممالک، جو روس پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مستحکم پاکستانی بندرگاہوں اور افغانستان سے ٹرانزٹ کے راستوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر افغانستان دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا رہے تو امریکا کے طویل المدتی اسٹریٹجک اہداف متاثر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: گرین پاکستان انیشیٹو فیز2، بلوچستان کے کسانوں کو 3.2 ارب روپے کے قرضے دیے گئے، سرفراز بگٹی
اس پورے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں، امریکا کے مفادات اس وقت بھی خطرے میں ہیں جب علاقائی رقبوں میں علیحدگی پسند اور دہشتگرد گروہ غیر مستحکم صورتحال پیدا کریں۔ بلوچستان اور پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں استحکام برقرار رکھنا نہ صرف امریکی سرمایہ کاری بلکہ خطے میں سلامتی اور طویل مدتی سپلائی چین کی حفاظت کے لیے بھی اہم ہے۔
سیاستدانوں اور عالمی تجزیہ کاروں کے لیے سوال یہ ہے کہ کیا امریکا ہندوستان طالبان تعلقات کو پاکستان کے معدنی وسائل تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت دے گا، یا وہ خطے میں استحکام کے لیے فعال کردار ادا کرے گا؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان میں طالبان اور دہشتگرد امریکا بھارت پاکستان معدنی وسائل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان اور دہشتگرد امریکا بھارت پاکستان پاکستان کے معدنی وسائل سرمایہ کاری وسائل کی کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔