سرحد پار دہشتگردی برداشت سے باہر، منصوبہ ساز کہیں بھی محفوظ نہیں رہیں گے، صدر آصف زرداری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کا صبر اپنی حد کو پہنچ چکا ہے اور ملک اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت ضروری اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ تشدد کی منصوبہ بندی کرنے والے عناصر چاہے کہیں بھی ہوں، پاکستان کی دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل محفوظ پناہ گاہیں ملتی رہیں، جس کے باعث افغانستان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں زیادہ تشویشناک اور غیر یقینی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کارروائی کی کھلی اجازت ملی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں متعدد دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے، جن میں داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر گروہ شامل ہیں جو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ صدر کے مطابق افغان حکام انتباہات کے باوجود کوئی مؤثر اور قابلِ اعتماد کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی شہریوں کی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق تقریباً 70 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان سے تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔