بھارت کی بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِ خارجہ کو دہلی آنے کی باضابطہ دعوت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکہ: بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت نئی دہلی نے بنگلہ دیش کے نو منتخب وزیرِ خارجہ خلیلُر رحمان کو سرکاری دورے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔
بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے دی جانے والی یہ دعوت ڈھاکہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر پرانئے ورما نے ایک خیرسگالی ملاقات کے دوران بنگلہ دیشی ہم منصب کو پہنچائی۔
اتوار کی دوپہر ہونے والی اس ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ بھارتی ہائی کمشنر نے نئی حکومت کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھنے اور دوطرفہ شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق بھارتی نمائندے نے تجارت، رابطہ کاری، توانائی، سیکیورٹی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا جبکہ وزیرِ خارجہ خلیلُر رحمان نے اس موقع پر کہا کہ بنگلہ دیش ایک متوازن، دور اندیش اور مضبوط شراکت داری کے فروغ کا خواہاں ہے، جس کی بنیاد دونوں ممالک کے عوام کے باہمی مفادات اور فلاح و بہبود پر ہو۔
خلیلُر رحمان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان قریبی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ رابطوں اور اعلیٰ سطحی تبادلوں کو جاری رکھا جانا چاہیے۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے مسلسل، تعمیری اور بامقصد مکالمہ ناگزیر ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق مجوزہ دہلی دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی پیش رفت کا سبب بن سکتا ہے بلکہ خطے میں باہمی اعتماد سازی اور تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات جنوبی ایشیا کی مجموعی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہونے کی توقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔