ریسرچ کے لیے پاکستان آنے والا کینیڈین شہری لاہور سے اغوا، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
شہر میں کینیڈین شہری حمزہ احمد کو اغوا کر لیا گیا، جو ریسرچ کے لیے لاہور آیا تھا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈیفنس اے پولیس نے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حمزہ احمد اپنے دوست یوسف رشید کے گھر ڈیفنس فیز 10 میں مقیم تھے۔ پولیس نے حمزہ احمد کے دوست یوسف رشید کے بیان کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خضدار اور بارکھان میں مسلح افراد کے حملے، 11 مزدور اغوا
حمزہ احمد 13 فروری کو پاکستان پہنچے تھے۔ ان کے مطابق، وہ نجی کمپنی کی کیب بک کرکے باہر گئے مگر واپس نہیں لوٹے۔ مقدمہ مدعی کے بیان پر درج کیا گیا ہے۔
لاہور کے ڈی آئی جی آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ حکام واقعے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اغوا ریسرچ کینیڈا لاہور پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اغوا کینیڈا لاہور پولیس
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔