پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی، اربوں روپے ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی، 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار 336 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔بعدازاں ٹریڈنگ کے دوران سٹاک مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی، انڈیکس 6200 پوائنٹس کم ہو کر رواں سال کی دوسری بڑی مندی کا شکار ہوا، تاہم ٹریڈنگ کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 5 ہزار 478 پوائنٹس کمی سے ایک لاکھ 67 ہزار 691 کی حد پر بند ہوا ہے۔سٹاک ایکسچینج میں 567 کمپنیوں میں سے صرف 42 کمپنیوں میں اضافہ، جبکہ 389 کمپنیوں میں کمی ہوئی، سٹاک مارکیٹ میں 24 ارب روپے مالیت کے 46 کروڑ شیئرز کا لین دین ہوا۔واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر 100 انڈیکس 999 پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 73 ہزار 169 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سٹاک مارکیٹ
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔