عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
عمران خان کے نامزد لیڈر آف دی اپوزیشن محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) قومی اسمبلی میں بانی پی ٹی آئی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کردی گئی۔ پی ٹی آئی کے بانی راہنما اکبر ایس بابر کے وکیل جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے محمودخان اچکزئی کی تعیناتی کے خلاف آئینی پٹیشن پیر کو دائر کی۔ سپریم کورٹ کے وکیل عمران شفیق اور حنبل مراد صدیقی ایڈووکیٹ بھی مقدمے میں جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی کی معاونت کریں گے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر قرار دے کر آئین کی متعلقہ شقوں اور قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی تعیناتی کے لئے اختیار کیاگیا طریقہ کار آزادانہ اور قواعد کے مطابق نہیں جبکہ متعلقہ ارکان اسمبلی کی آزادانہ رائے اور مرضی کے تعین کا قانونی عمل بھی پورا نہیں ہوا جس سے آئین کے آرٹیکل 4 اور 17 میں درج آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
اکبر ایس بابر کا موقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا نوٹیفکیشن آئین کی سنگین خلاف ورزی کا مظہر ہے۔ اپوزیشن لیڈر کو جیل میں موجودایک ایسے شخص (عمران خان احمد خان نیازی) نے نامزد کیا جسے عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دیاجاچکا ہے ۔
پٹیشن کے مطابق اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن قانونی نہیں کیونکہ اس عمل میں قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کے رول 39 (تین) کی خلاف ورزی ہوئی اور اس میں درج لازمی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ قاعدہ 39 (تین) میں واضح ہے کہ سپیکر اراکین اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق کے بعدہی سب سے زیادہ عددی طاقت رکھنے والے رکن کو اپوزیشن لیڈر قرار دے گا۔ قانون کے تحت ارکان قومی اسمبلی کے دستخطوں کی تصدیق محض رسمی کارروائی یا صوابدیدی اختیار نہیں ہوتا بلکہ ایک لازمی شرط ہے جسے پورا کرنے کے بعد ہی سپیکر اپوزیشن لیڈر کے اعلان کا مجاز ہے۔ ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کا مطلب آزادانہ طور پر دستخطوں کی صداقت اور رضامندی کی جانچ پڑتال کرناہے۔اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے اعلان کا سپیکر کا اختیار ’خلا‘ میں نہیں بلکہ آزادانہ اور رضاکارانہ رائے کی تصدیق سے مشروط ہے
وفاقی آئینی عدالت سے استدعا کی گئی کہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر قرار دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم، غیر قانونی اور قانونی اختیار سے ماورا قرار دیا جائے جس سے پاکستان کے شہریوں کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقوق ، آئین اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط 2007 کی خلاف ورزی ہوئی۔
وفاقی آئینی عدالت سے استدعاکی گئی کہ آئین کی شق 62 اور 63 کے تحت نااہل کسی فرد کو بالواسطہ یا بلاواسط سیاسی عمل میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ساتھ ہی ساتھ سپیکر کو ہدایت کی جائے کہ وہ رول 39 (تین) کے مطابق اپوزیشن لیڈر کے تعیناتی کا نیا عمل شروع کریں ۔پٹیشن پر حتمی فیصلے تک محمود خان اچکزئی کو آئین کے آرٹیکل 175 اے، 213 اور 224 اے کے تحت آئینی عمل میں شرکت سے روکا جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی، اربوں روپے ڈوب گئے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی، اربوں روپے ڈوب گئے افطار ڈنر 2026: بیرونِ ملک تھائی برادری کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی ایک کاوش افغان طالبان کی دہشتگردوں کی پشت پناہی بےنقاب، پاکستانی کارروائی سےمتاثرعلاقوں تک میڈیا رسائی روک دی روس کا 300 ڈرون اور 50 میزائل کے ساتھ یوکرین پر بڑا حملہ، کئی شہروں میں دھماکے افغانستان میں چینی سرمایہ کاری خطرے میں، رپورٹ میں تشویشناک انکشافات سلیم بلوچ کی ہلاکت سے لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی بے نقابCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خان اچکزئی کی تعیناتی وفاقی ا ئینی عدالت محمود خان اچکزئی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔