لاہور: دوران ڈکیتی پہچاننے پر 32سالہ خاتون کو قتل کرنے والا خالہ زاد کزن گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
شفیق آباد کے علاقہ میں دوران ڈکیتی 32 سالہ نوجوان خاتون کے قتل کا معمہ حل ہوگیا، خالہ زاد بھائی ہی قاتل نکلا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے قتل کی اس بڑی واردات کا نوٹس لیا تھا، ایس پی انویسٹی گیشن سٹی فرحت عباس کی سربراہی میں ملزم کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔
انچارج انویسٹی گیشن تھانہ شفیق آباد شاہزیب کمبوہ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم نے چند روز قبل 32 سالہ نمرہ کو چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کر دیا تھا، ملزم دوران ڈکیتی گھر سے 10 لاکھ روپے نقدی بھی لے گیا تھا۔
مقتولہ کا خاوند اپنی والدہ کو چیک کروانے نجی اسپتال گیا تھا، مقتولہ نمرہ اپنے 2 سالہ بیٹے کے ساتھ گھر میں اکیلی تھی۔ دوران ڈکیتی مزاحمت پر مقتولہ نے ملزم کو پہچان لیا تھا، اسی بنا پر ملزم نے نمرہ کو چھری کے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔
ملزم کو پیشہ وارانہ مہارت اور ہیومن انٹیلیجنس کی مدد سے گرفتار کیا گیا، ملزم سے دوران ڈکیتی لوٹی گئی لاکھوں روپے نقدی برآمد کر لی گئی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق خواتین و بچوں پر تشدد اور سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
ملزم اب پولیس کی گرفت میں ہے، پولیس پراسیکیوشن پارٹنر شپ کی مدد سے گرفتار ملزم کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کی جانب سے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان بھی کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انویسٹی گیشن دوران ڈکیتی ملزم کو
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔