راولپنڈی میں گرین الیکڑک بس پر حملہ کرنے والے 13 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
راولپنڈی میں گرین الیکڑک بس پر ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کرنے والے 13 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ گرین الیکڑک بس پر اولڈ ایئرپورٹ روڈ پر کورال سے فوارہ چوک جاتے ہوئے چکلالہ ریلوے اسٹیشن کے قریب تقریباً 400 ون ویلرز و تماش بینوں نے اچانک ڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کیا تھا۔ اس دوران بس کے کیپٹن نے بس کو فاسٹ ٹریک پر بھگانے کی کوشش کی لیکن ڈنڈے اور پتھر لگنے سے بس کو نقصان پہنچنا، ایک مسافر زخمی ہوگیا اور بس کا شیشہ ٹوٹ گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایئرپورٹ روڈ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت شروع کرکے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کریک ڈاؤن شروع کیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کے مطابق ملزمان کے قبضے سے ڈنڈے اور 7 موٹر سائیکل برآمد کرلیے گیے، مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔