مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟
ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟ پیپلز پارٹی کی اپنے بانی کے آئین سے بے وفائی ہے، رہنماؤں کی پریس کانفرنس
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیٔرمین خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے کہ 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی مسئلے کا حل مکالمہ ہوتا ہے، ہم امن سے رہنے کی تمنا رکھنے والے لوگ ہیں، ایک اہم موڑ پر ہم داخل ہو گئے ہیں، ہم نے بھی اب فیصلہ کرنا ہے، ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، سندھ کے شہری علاقوں میں عوام کی جانب سے تمام مکاتب فکر سے سوال ہے؟ کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے؟ جو سب ٹیکس دے اس کو کوئی اختیار نہیں؟۔خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے، دھرتی ماں پاکستان ہے، صوبے اس کے حصے ہیں، پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا، یہ کیسا انصاف ہے کہ 180 سیٹیں لینے والا جیل میں اور 80 سیٹ لینے والا وزیراعظم ہے، ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے، کسی صوبے میں لسانیت کی بنیاد پر کیا تقسیم ملتی ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے شریک جرم ہے، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ پیپلزپارٹی کی منافقت یہ ہے جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے، سندھ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ کثیراللسانی صوبہ ہے، جو سلوک 50 سالوں سے شہری علاقوں کے ساتھ جاری ہے کیا اس کی مثال کہیں اور ہے؟ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں سب سے زیادہ غربت بڑھنے کی شرح سندھ میں ہے۔چیٔرمین ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ آئین زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے، واحد ایم کیو ایم نے 10 کے بجائے 5 سال کے اندر دو مردم شماری کروائیں، آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بے وفائی کر رہی ہے، آرٹیکل 140 اے آئین کا حصہ ہے جو پورے پاکستان کیلئے ہے، آئین ہی ہمیں پر امن جدوجہد اور احتجاج کی اجازت دیتا ہے، یہ قرارداد پاکستان کی تقسیم کی سازش ہے، انصاف ہی امن کی ضمانت ہے، امن انصاف کی ضمانت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم سیٹوں والا کے ا ئین ایم کی
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت