شہید نصراللہ اور امام خامنہای کے درمیان گہرا عشق اور قلبی وابستگی تھی، شیخ نعیم قاسم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
العہد سے گفتگو میں شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ دنیا نے ان عظیم شہداء کی تشییع کے مناظر میں جو کچھ دیکھا، وہ لبنانی عوام کی زندگی میں مزاحمت کی گہری جڑوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے شہید سید حسن نصرالله اور رہبرِ انقلاب امام خامنهای کے درمیان گہرے عشق اور باہمی ارادت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے آج مزاحمت کے عظیم رہنماؤں، شہید سید حسن نصرالله اور شہید سید هاشم صفیالدین کی تشییعِ جنازہ کی پہلی برسی کے موقع پر کہا کہ امتِ اسلامی کے سید الشہداء، شہید سید حسن نصرالله اور سید ہاشمی (شہید سید ہاشم صفیالدین) سے عوام کی محبت بے مثال تھی۔ شیخ نعیم قاسم نے ویب سائٹ العہد سے گفتگو میں زور دے کر کہا کہ دنیا نے ان عظیم شہداء کی تشییع کے مناظر میں جو کچھ دیکھا، وہ لبنانی عوام کی زندگی میں مزاحمت کی گہری جڑوں کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ امر ان کے عزم پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ ان عظیم شہداء کے راستے کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ نعرہ «ہم اپنے عہد پر قائم ہیں» حال اور مستقبل کی ایک حقیقی تعبیر ہے۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا کہ ان عظیم شہداء کی تشییع، مزاحمت کے راستے پر کاربند رہنے اور تجدیدِ عہد کا مظہر تھی، مزاحمت کی قوت کی ازسرِنو تعمیر میں ابتکارِ عمل کی بازیابی کی علامت تھی اور اس کے گرد عوامی وحدت کے اعادہ کا اعلان بھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شہید سید حسن نصرالله اور شہید سید ہاشم صفیالدین کی شاندار تشییع کی سیاسی اہمیت اس بات میں مضمر تھی کہ اس نے ثابت کر دیا کہ مزاحمت، قیادت کی سطح پر ہو یا مجاہدین اور عوام کی سطح پر، بدستور جاری ہے۔ اولیالبأس کی جنگ ایک اہم موڑ تھی، اور اس معرکے میں ان دونوں شہداء کی قیادت میں مزاحمت نے جو کچھ پیش کیا، وہ وہ خون تھا جو مزاحمت کی بقا اور اس کے وقار کی بحالی کے لیے بہایا گیا۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ یہ مزاحمت نظریاتی، قومی اور سراسر ایثار پر مبنی ہے، اور اس پر پڑنے والے تمام ضربات، سازشوں اور دباؤ کے باوجود ناقابلِ شکست ہے۔ یہ مزاحمت حق اور حقیقت کی بنیاد پر قائم ہے، اور جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ یا تو شہادت پاتے ہیں یا پھر فتح سے ہمکنار ہوتے ہیں۔ انہوں نے شہید سید ہاشم صفیالدین کی بامعنی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ایک مضبوط سہارے اور بڑے ستون کے طور پر بہت یاد کرتے ہیں، اور ان شاء اللہ جو کچھ انہوں نے مزاحمت کے لیے تعمیر کیا ہے، اس سے بھرپور استفادہ کیا جائے گا۔ شیخ نعیم قاسم نے کہا: میں نے ایک پناہ، ایک قائد، ایک بلند مرتبہ شخصیت اور ایک تخلیقی ذہن کو کھو دیا ہے، لیکن میں اللہ کی تقدیر اور فیصلے پر کامل ایمان رکھتا ہوں۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ شہید سید حسن نصرالله، امام خامنہای سے گہری محبت رکھتے تھے اور ان کے ہر ہر کلمے کے منتظر رہتے تھے، جبکہ امام خامنہای بھی شہید سید حسن نصرالله کے کردار، اہلیت اور ممتاز مقام سے غیرمعمولی محبت اور اعتقاد رکھتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید سید حسن نصرالله اور ان عظیم شہداء صفی الدین مزاحمت کی کی تشییع شہداء کی انہوں نے عوام کی اور اس نے کہا کہا کہ جو کچھ
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔