شہید لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز فوجی اعزاز کیساتھ سپرد خاک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کے حملے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کو مانسہرہ میں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کی نمازِ جنازہ میں اہلِ خانہ، اعلیٰ فوجی افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز کی بہادری اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور ایک سپاہی شہید ہو گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ خوارج مارے گئے، جبکہ بروقت کارروائی سے بنوں کو ایک بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔