کرک میں ایف سی قلعے پر حملہ، زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر فائرنگ، تین اہلکار شہید اور پانچ زخمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فیڈرل کانسٹیبلری کے قلعہ پر ایک پرتشدد حملے کے دوران 3 اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حملہ ابتدائی طور پر کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیا گیا، جس سے قلعہ پر تعینات 5 ایف سی اہلکار زخمی ہوئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی او کرک نے بتایا کہ واقعہ درگہ شہیدان کے علاقے میں پیش آیا، زخمی ہونے والے اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس روانہ کی گئی، تاہم راستے میں ایمبولینس پر بھی مسلح افراد نے فائرنگ کر دی۔ اس حملے میں ایمبولینس میں موجود 3 زخمی اہلکار جان کی بازی ہار گئے جبکہ ریسکیو کے 2 اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ کے بعد دیگر زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ حملے کے ذمہ دار افراد کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
پولیس نے بتایا کہ بہادر خیل کے مقام پر ایمبولینس پر حملہ کرنے والے مسلح افراد کا ہدف نہ صرف زخمی اہلکاروں کو ہلاک کرنا تھا بلکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا بھی تھا۔ اہلکاروں اور ریسکیو ٹیم کی بہادری کی بدولت باقی زخمی افراد محفوظ رہ سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک کے شمالی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار نہ صرف اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر محاذ پر تعینات ہیں بلکہ خطرناک حالات میں بھی عوام کی خدمت اور قانون کی پاسداری میں پیش پیش رہتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔