اپوزیشن ان کو مذاکرات کی درخواستیں بھیجتی ہے، جو بات کرنا نہیں چاہتے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ سنجیدہ مذاکرات کے خواہاں ہیں، ان سے بات نہیں کی جارہی، جبکہ جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے، ان کو درخواستیں دی جا رہی ہیں۔
سینیٹ آف پاکستان کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ حکومت جمہوری انداز میں معاملات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے کیونکہ جمہوریت کا راستہ مذاکرات سے ہوکر گزرتا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لیے حکومت کا ساتھ دے اور سیاسی عمل کا فعال حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی ملک میں افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتی ہے، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کرنی چاہیے کیونکہ ماضی میں بھی وہ ایسی کمیٹیوں کا حصہ رہی ہے، تاہم بعد میں بعض فیصلوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے اس وقت بھی مفاہمت کی کوشش کی تھی جب اپوزیشن اقتدار میں تھی اور آج بھی ملک کی بہتری کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے قانونی مقدمات کے حوالے سے کہا کہ اپوزیشن کیسز پر اعتراض اٹھاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں بھی عدالتوں سے ریلیف لینا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن پارلیمنٹ اور جمہوری اداروں میں اپنا کردار ادا کرے۔
یہ بھی پڑھیں: میثاق جمہوریت کا مسودہ سامنے آئے گا تو دیکھیں گے، رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی کی پیشکش پر جواب
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ڈاکٹرز نے ان کا معائنہ کیا اور ان کے مطالبے پر بعض افراد کو بھی شامل کیا گیا، جبکہ بیرسٹر گوہر خان کو شرکت کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے شرکت سے انکار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک طبی معائنے کے بعد ڈاکٹر کی رائے میں علاج کو درست قرار دیا گیا، اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس حوالے سے مزید مطالبات نہ تو پیش کیے گئے اور نہ ہی منظور ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news رانا ثنااللہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: رانا ثنااللہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔