وفاقی آئینی عدالت میں محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کی تقرری کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
درخواست اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جو شوکت عزیز صدیقی کے ذریعے عدالت میں جمع کرائی گئی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک مذکورہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جائے۔
مزید پڑھیے: 8 فروری کو زبردست احتجاج ہوگا، پردہ دار خواتین اور بچوں پر ظلم ہو رہا ہے: محمود خان اچکزئی
درخواست گزار کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو یہ جانچنا چاہیے تھا کہ اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی آزادانہ اور شفاف طریقے سے عمل میں آئی یا نہیں۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ تقرری کے عمل میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد مناسب حکم جاری کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اکبر ایس بابر محمود خان اچکزئی کی تقرری چیلنج وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اکبر ایس بابر محمود خان اچکزئی کی تقرری چیلنج وفاقی آئینی عدالت محمود خان اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔