کراچی: کمسن بچے کا اغوا و زیادتی، ملزمان کو 23، 23 سال قید کی سزا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فائل فوٹو
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے کمسن بچے کو اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنانے کے کیس میں دونوں ملزمان کو 23، 23 سال قید کی سزا سنا دی۔
عدالت نے دونوں ملزمان پر ایک لاکھ روپےجرمانہ بھی عائد کردیا، ملزمان کے خلاف تھانہ بلوچ کالونی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
متاثرہ لڑکی کے والد اور مدعی مقدمہ کا کہنا ہے کہ بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔
کیس کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے محمود آباد کے قریب 15 سال کے لڑکے کو اغوا کیا اور گاڑی کے اندر بچے سے زیادتی کی، موقع پاکر بچہ گاڑی سے کود کر رکشہ والے کی مدد سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کے چہرے صاف نظر نہیں آرہے ہیں۔
جرم ثابت ہونے پر ملزم اقبال کو سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا جبکہ دوسرے جرم میں عمر قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کم عمر بچے کے اس حالت میں گاڑی پہچاننا مشکل ہوتا ہے۔ پورے واقعے کے حوالے سے متاثرہ بچے کا بیان مستحکم رہا۔
عدالت نے ملزمان عارف عرف ٹنگا اور شہباز عرف چھبا کو مجموعی طور پر 23، 23 سال قید کی سزا سنا دی جبکہ عدالت نے دونوں ملزمان پر 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ