بھارت نے بھی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
بھارت(ویب ڈیسک) کی وزارتِ خارجہ نے ایران میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ امریکی حملے کے خدشات کے باعث بھارتی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تہران میں بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر جو بھارتی شہری اس وقت ایران میں موجود ہیں، وہ دستیاب ذرائع بشمول کمرشل پروازوں کے ذریعے جلد از جلد ایران چھوڑ دیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے اندازے کے مطابق ایران میں عموماً تقریباً 10 ہزار بھارتی شہری موجود ہوتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ تمام بھارتی شہری اور بھارتی نژاد افراد احتیاط برتیں، احتجاج یا مظاہروں کے مقامات سے دور رہیں، ایرانی حکام کی ہدایات پر عمل کریں، بھارتی سفارتخانے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور مقامی میڈیا پر صورتحال کی نگرانی کریں۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کے روز اسرائیل کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ مودی کا دورہ مبینہ طور پر ’انتہاپسند دشمنوں‘ کے خلاف ایک نئے اتحاد کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایران میں
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔