مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے جنگی جرائم جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے چھترو میں گزشتہ کئی روز سے جاری تلاشی آپریشن کے دوران حراست میں لینے کے بعد فرضی جھڑپ میں شہید کیا اور بعد ازاں لاشوں کو کیمیانی مادے کے ذریعے جلا دیا جس کے نتیجے میں وہ ناقابل شناخت ہو گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے آج جموں خطے کے ضلع کشتواڑ میں تین نوجوانوں کو ایک جعلی مقابلے میں شہید کیا اور ان کی لاشوں کو مسخ کر کے اپنی درندگی اور وحشیانہ پن کا ایک اور باب رقم کیا۔ فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کے علاقے چھترو میں گزشتہ کئی روز سے جاری تلاشی آپریشن کے دوران حراست میں لینے کے بعد فرضی جھڑپ میں شہید کیا اور بعد ازاں لاشوں کو کیمیانی مادے کے ذریعے جلا دیا جس کے نتیجے میں وہ ناقابل شناخت ہو گئیں۔ ذرائٰع کے مطابق کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہیداورانکی لاشوں کو کیمیائی مود کے ذریعے مسخ کرنے کایہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک کی نام نہاد پیشہ وارانہ فوج اب تک مقبوضہ علاقے میں اس طرح کی سینکڑوں کارروائیاں کر چکی ہے۔ بے لگام بھارتی فوجیوں کیطرف سے مقبوضہ علاقے میں جنگی جرائم کا ارتکاب روز کا معمول ہے۔ آزادی کی منصفانہ جدوجہد میں مصروف کشمیریوں کے گھروں کو بارودی مواد کے ذریعے اڑانا، نوجوانوں کی لاشوں کو مسخ کرنا بھارتی جمہوریت کے ماتھے پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ بھارت نے گزشتہ 78برس سے کشمیریوں کی خواہشات کے منافی جموں و کشمیر پر قبضہ جما رکھا ہے۔ دنیا کا یہ نام نہاد جمہوری ملک علاقے میں بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ بھارتی فوج بدترین مظالم کے باوجود کشمیریوں کو زیر کرنے میں ناکام رہی ہے، وہ کشمیری نوجوانوں سے لڑنے سے قاصر ہے اور انہیں اغوا کرنے اور حراست میں لینے کے بعد جعلی مقابلوں میں شہید کر دیتی ہے۔ بھارت دراصل مقبوضہ علاقے میں ایک ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہا ہے۔ وہ اپنی بدترین ریاستی دہشت گردی اور وحشیانہ مظالم کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ شکست خودہ بھارتی فوج اب کشمیری نوجوانوں کی لاشوں کو جلا کر مسخ کر کے اپنے انتقام کی آگ بجھانے میں مصروف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نوجوانوں کو کی لاشوں کو بھارتی فوج علاقے میں میں شہید کے ذریعے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔