مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی قبضے سے متعلق امریکی سفیر کا بیان قابل مذمت ہے، حاجی حنیف طیب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
چیئرمین نظام مصطفی پارٹی نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ بیانات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، فلسطین یا کسی بھی عرب سرزمین پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ چیئرمین نظام مصطفی پارٹی سابق وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت سمندر پار پاکستانیز ڈاکٹر حاجی حنیف طیب، پارٹی صدر میاں خالد حبیب الٰہی ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری پروفیسر عبدالجبار قریشی، چیف آرگنائزر انجینئر عبدالرشیدار نے اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی کی جانب سے اسرائیل کے مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے پر قبضے کرنے کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ”اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے بڑے حصے پر کنٹرول کا حق اسے الہامی کتابوں میں دیا گیا ہے، بائبل کے لحاظ سے فرات سے نیل تک زمین پر اسرائیل کا حق ہے“۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر کے بیان پر پاکستان، سعودیہ عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، کویت، عمان، بحرین سمیت 14 اسلامی ممالک، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) عرب لیگ، خلیج تعاون کونسل نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے امریکی سفیر کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس طرح کے بیانات کو خطے کی سلامتی اور امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر حاجی حنیف طیب نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اور غیرذمہ دارانہ بیانات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرے کا باعث بن سکتے ہیں، فلسطین یا کسی بھی عرب سرزمین پر اسرائیل کا کوئی حق نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر اسرائیل نے کہا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔