اسٹاک مارکیٹ تیزی کے بعد شدید مندی کا شکار: سرمایہ کاروں کو اربوں روپےکا جھٹکا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں سال کی دوسری بڑی مندی دیکھنے میں آئی، جس کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔
کاروباری ہفتے کے پہلے روز کاروبار کے آغاز پر اسٹاک ایکسچینج میں تیزی دیکھنے میں آئی، 1000 سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 74 ہزار 336 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
کاروبارکے دوران اسٹاک مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی، انڈیکس 6200 پوائنٹس کم ہو کر رواں سال کی دوسری بڑی مندی کا شکار ہوا، تاہم ٹریڈنگ کے اختتام پر ہنڈرڈ انڈیکس 5 ہزار 478 پوائنٹس کمی سے ایک لاکھ 67 ہزار 691 کی حد پر بند ہوا ہے۔
اسٹاک ایکسچینج میں 567 کمپنیوں میں سے صرف 42 کمپنیوں میں اضافہ، جبکہ 389 کمپنیوں میں کمی ہوئی، اسٹاک مارکیٹ میں 24 ارب روپے مالیت کے 46 کروڑ شیئرز کا لین دین ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹاک مارکیٹ
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔