ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2026 GMT
ہم مذاکرات چاہتے ہیں مگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو تو پھر کیا کرسکتے ہیں، رانا ثنا اللہ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگر کوئی ہٹ دھرمی پر اڑا ہو، کوئی بات ماننے کو تیار نہ ہو تو پھر کیا کیا جاسکتا ہے؟ سیاست دانوں نے تو میثاق جمہوریت کیا تھا لیکن ان کے لیڈر نے چھ سات سال زور لگا کر کہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان کی صحت کے معاملے پر رانا ثنا نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق ڈاکٹر ندیم قریشی کو ان کے مطالبے پر شامل کیا گیا ہے، ڈاکٹرز نے معائنہ کیا، گوہر خان کو شرکت کی درخواست کی گئی مگر انہوں نے انکار کر دیا، سپریم کورٹ میں مزید ڈیمانڈ نہیں کی گئی یا وہ تسلیم نہیں کی گئی، آپ کو ایک معائنہ کروایا اور ڈاکٹر نے ٹریٹمنٹ کو درست قرار دیا اس بنیاد پر کہا جاتا ہے اس معاملے پر سیاست نہ کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت نے ہمیشہ کوشش کی ہے اس وقت بھی کوشش کی جب آپ اقتدار میں تھے، ہم اس ملک کی بہتری کے لیے آپ کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ کا حصہ بنیں کمیٹیوں میں شرکت کریں آپ میثاق جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہمارا ساتھ دیں مگر آپ سیاسی عمل کا حصہ بننے سے مسلسل انکاری ہیں، آپ بھی اس کمیٹی کا حصہ تھے جس میں سب سینئر موجود تھے آپ نے دوسری کمیٹی میں کیا جواب دیا تھا کہ ہمیں حکم آگیا ہے، کیسز کے معاملے پر آپ کہتے ہیں کہ ٹھیک نہیں مگر ہمارا خیال مختلف ہے آپ کو بھی مقدمات پر عدالتوں سے ریلیف لینا ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جو آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں آپ ان سے مذاکرات نہیں کرتے، جو مذاکرات نہیں کرنا چاہتے آپ نے ان کو درخواستیں دی ہوئی ہیں، ہم معاملات کو جمہوری انداز سے بڑھانے کے لیے تیار ہیں، جمہوریت مذاکرات سے آگے بڑھتی ہے ڈیڈلاک سے نہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربنگلادیشی آرمی میں اعلی سطح پر بڑی تبدیلیاں، چیف آف جنرل اسٹاف بھی تبدیل بنگلادیشی آرمی میں اعلی سطح پر بڑی تبدیلیاں، چیف آف جنرل اسٹاف بھی تبدیل پے در پے حادثوں کے بعد بھارتی فضائیہ نے تمام تیجس لڑاکا طیاروں کو گراونڈ کردیا سپریم کورٹ کے باہر پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج پشاور میں چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس پر 20لاکھ روپے اخراجات کا انکشاف چیئرمین سی ڈی اے کا سیکٹر ایچ نائن میں قائم رمضان سہولت بازار کا دورہ،اشیا خوردونوش کی ارزاں نرخوں پر فراہمی اور کوالٹی کا... پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلادیشی وزیرِ خارجہ سے ملاقات، عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی
Copyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رانا ثنا اللہ چاہتے ہیں نے کہا کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔